سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 6
کہ یقیناً اس سے بڑھ کر آج تک کسی مذہب اور کسی بانی مذہب کو نصیب نہیں ہوا۔یہ مواد متعد دصورتوں میں پایا جاتا ہے اور ہم ان مختلف صورتوں کا ایک اجمالی نقشہ ذیل کے اوراق میں ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔قرآن شریف سب سے اول نمبر پر اسلامی تاریخ کا وہ مضبوط قلعہ ہے جو قرآن شریف کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق قرآن شریف کا ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرف خُدا کا کلام ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بصورت وحی نازل ہوا۔یہ نزول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تئیس سالہ نبوت کی زندگی پر پھیلا ہوا تھا۔یعنی الہام سے ہی آپ کے دعوئی کی ابتداء ہوئی اور قرآن شریف کا آخری حصہ اس وقت نازل ہوا جب کہ آپ کی وفات بالکل قریب تھی۔اس طرح اگر آپ کی نبوت کے مجموعی ایام کے مقابلہ پر قرآنی آیات کی مجموعی تعداد کو رکھ کر دیکھا جائے تو روزانہ نزول کی اوسط ایک آیت سے بھی کم بنتی ہے کیونکہ جہاں آپ کی نبوت کے ایام کم و بیش سات ہزار نوسوستر بنتے ہیں وہاں قرآنی آیات کی تعداد صرف چھ ہزار دو سو چھتیں ہے اور چونکہ قرآنی الفاظ کی مجموعی تعدا د ستر ہزار نو سو چونتیس ہے اس لیے فی آیت بارہ الفاظ کی اوسط ہوئی جس سے روزانہ نزول کی اوسط کم و بیش نو لفظ سمجھی جاسکتی ہے۔ان اعداد و شمار سے ظاہر ہے کہ قرآن شریف بہت ہی آہستہ آہستہ نازل ہوا تھا۔اور گو یہ درست ہے کہ قرآن شریف کے نزول میں بعض اوقات ناغے بھی آ جاتے تھے اور بعض دوسرے ایام میں ایک ہی وقت میں متعدد آیات اکٹھی نازل ہو جاتی تھیں۔لیکن پھر بھی قرآن شریف کبھی بھی ایک وقت میں اتنی مقدار میں نازل نہیں ہوا کہ اُسے لکھ کر محفوظ کرنے یا ساتھ ساتھ یاد کرتے جانے میں کوئی مشکل محسوس ہوئی ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طریق تھا کہ جو جو آیات قرآن شریف کی نازل ہوتی جاتی تھیں انہیں ساتھ ساتھ لکھواتے جاتے اور خدائی تفہیم کے مطابق ان کی ترتیب بھی خود مقرر فرماتے جاتے تھے۔اس بارے میں بہت سی حدیثیں وارد ہوئی ہیں جن میں سے مندرجہ ذیل حدیث بطور مثال کے پیش کی جاسکتی ہے۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَانَزَلَ عَلَيْهِ شَيْءٌ دَعَا بَعْضَ مَنْ كَانَ يَكْتُبُ فَيَقُولُ ضَعُوا هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ فِى سُورَةِ الَّتِى يَذْكُرُ فِيْهَا كَذَا وَكَذَا فَإِذَانَزَلَتْ عَلَيْهِ ل : كتاب الاتقان في علوم القرآن للسيوطی جز واوّل صفحہ ۶۷،۶۶