سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 184 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 184

۱۸۴ جاتا تھا جو مکہ کے ایک مشرک رئیس ابن حضرمی کا غلام تھا۔یہ شخص چونکہ عیسائی تھا اور عیسائیت کی تعلیم بت پرستی کی نسبت اسلام کے زیادہ قریب تھی اور مکہ کے مناظر میں جبر کو شرک اور بت پرستی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا، اس لیے وہ کبھی کبھی اپنے مذہبی شوق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا رہتا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کے شوق کو دیکھ کر کبھی کبھی اس کے پاس تشریف لے جاتے تھے اور اسلام کی تبلیغ فرماتے تھے۔قریش نے یہ نظارہ دیکھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کرنے کی غرض سے یہ مشہور کرنا شروع کر دیا کہ ”محمد تو جبر سے تعلیم حاصل کرتا ہے۔اسلام اور مسیحیت کی تعلیم کے اختلاف اور جبر کی علمی حیثیت کو دیکھتے ہوئے یہ ایک نہایت فضول اور لغو اعتراض تھا، مگر قریش کو تو صرف اعتراض کی ضرورت تھی۔معقول یا غیر معقول ہونے سے سروکار نہ تھا۔اس لیے وہ بڑے شوق سے اس اعتراض کو دوہراتے رہے۔قرآن شریف نے اس اعتراض کا خوب جواب دیا ہے کہ جس شخص کی طرف تم محمد رسول اللہ کی تعلیم کو منسوب کرتے ہو اس کی زبان تو ظاہری اور معنوی ہر دورنگ میں گنگ ہے، پھر وہ قرآن جیسی کتاب میں محمد رسول اللہ کا استاد کس طرح ہو سکتا ہے یا یعنی یہ شخص غیر عربی ہونے کی وجہ سے اس فصیح اور بلیغ عربی کلام کا معلم کس طرح سمجھا جا سکتا ہے جو قرآن شریف میں استعمال ہوا ہے اور دوسری طرف معنوی رنگ میں اس شخص کی جہالت معارف قرآنی کا سر چشمہ کس طرح قرار دی جاسکتی ہے۔قرآنی آیات محولہ بالا میں جو عجمی یعنی غیر عربی کا لفظ استعمال ہوا ہے اس سے یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک ابھی انا جیل کا عربی ترجمہ نہیں ہوا تھا۔اس لیے اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جبرانا جیل کے کوئی حصے سناتا ہوگا تو وہ لاز ما عبرانی یا یونانی میں ہوں گے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کس طرح سمجھتے اور کس طرح عربی کے قالب میں ڈھالتے ہوں گے۔بعض روایتوں میں جبر کے سوا بعض اور لوگوں کے نام بھی اس تعلق میں بیان ہوئے ہیں جن کے متعلق قریش اعتراض کیا کرتے تھے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوسکھاتے ہیں۔مگر لطیفہ یہ ہے کہ یہ سب لوگ غلاموں کے طبقہ میں سے تھے۔بہر حال قریش مکہ نے کچھ دن اس اعتراض کو شہرت دے کر بھی اپنے دل کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی مگر جو آگ نہ بجھنے والی تھی وہ کیسے بجھتی ؟ : سورة نحل ا : ابن ہشام : دیکھو ٹیکسٹ اینڈ کمین آف نیوٹسٹیمنٹ مصنفہ اے سوٹر ایم۔اے اور شائع کردہ میسر زڈ کو رتھ لندن صفحہ ۷۲ : تفسیر البحر المحیط زیر آیت ۱۰۴ سورۃ نحل۔نیز لائف آف محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) مصنفہ سرولیم میور صفحه ۶۵