سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 183
۱۸۳ ہوں اور آپ کے شہر کے ایک رئیس ابوالحکم نے میری رقم دبا رکھی ہے اور مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ مجھے یہ رقم دلوا سکتے ہیں۔پس آپ مہربانی کر کے مجھے میری رقم دلوادیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوراً اُٹھ کھڑے ہوئے کہ چلو میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں؛ چنانچہ آپ اُسے لے کر ابو جہل کے مکان پر آئے اور دروازہ پر دستک دی۔ابو جہل باہر آیا تو آپ کو دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا اور خاموشی کے ساتھ آپ کا منہ دیکھنے لگا۔آپ نے فرمایا۔یہ شخص کہتا ہے کہ اس کے پیسے آپ کی طرف نکلتے ہیں۔یہ ایک مسافر ہے آپ اس کا حق کیوں نہیں دیتے ؟ اس وقت ابو جہل کا رنگ فق ہو رہا تھا۔کہنے لگا۔”محمد ٹھہر و! میں ابھی اس کی رقم لاتا ہوں۔چنانچہ وہ اندر گیا اور اراشہ کی رقم لا کر اسی وقت اس کے حوالے کر دی۔اراشہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت شکریہ ادا کیا اور واپس آ کر قریش کی اسی مجلس میں پھر گیا اور وہاں جا کر ان کا بھی شکریہ ادا کیا کہ آپ لوگوں نے مجھے ایک بہت ہی اچھے آدمی کا پتہ بتایا۔خدا اسے جزاء خیر دے اُس نے اُسی وقت میری رقم دلا دی۔رؤساء قریش کے منہ میں زبان بند تھی اور وہ ایک دوسرے کی طرف حیران ہو کر دیکھ رہے تھے۔جب اراشہ چلا گیا تو انہوں نے اس آدمی سے دریافت کیا جو اراشہ کے پیچھے پیچھے ابو جہل کے مکان تک گیا تھا کہ کیا قصہ ہوا ہے۔اُس نے کہا۔واللہ ! میں نے تو ایک عجیب نظارہ دیکھا ہے اور وہ یہ کہ جب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے جا کر ابوالحکام کے دروازہ پر دستک دی اور ابوالحکام نے باہر آکر محمد کو دیکھا تو اسوقت اس کی حالت ایسی تھی کہ گویا ایک قالب بے روح ہے اور جو نہی کہ اسے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے کہا کہ اس کی رقم ادا کر دو، اُسی وقت اُس نے اندر سے پائی پائی لا کر سامنے رکھ دی۔تھوڑی دیر کے بعد ابو جہل بھی اس مجلس میں آپہنچا۔اسے دیکھتے ہی سب لوگ اس کے پیچھے ہو لیے کہ اے ابوالحکم تمہیں کیا ہو گیا تھا کہ محمد سے اس قدر ڈر گئے۔اُس نے کہا۔خدا کی قسم ! جب میں نے محمد کو اپنے دروازے پر دیکھا، تو مجھے یوں نظر آیا کہ اُس کے ساتھ لگا ہوا ایک مست اور غضبناک اُونٹ کھڑا ہے اور میں سمجھتا تھا کہ اگر ذرا بھی چون و چرا کروں گا تو وہ مجھے چہا جائے گا لیے جو الزامات قریش مکہ کی طرف سے ایک عیسائی غلام سے تعلیم حاصل کرنے کا الزام ہم محضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لگائے جاتے تھے اُن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ آپ بعض عیسائیوں سے باتیں سیکھتے ہیں اور پھر انہیں اپنا رنگ دے کر اپنی تعلیم کے طور پر پیش کر دیتے ہیں۔اس ضمن میں خاص طور پر ایک جبو نامی عیسائی کا نام لیا ل سيرة ابن ہشام