سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 182
۱۸۲ تشریف لے آئے۔جب آپ واپس چلے آئے تو ابو جہل نہایت غضبناک ہوکر بولا کہ اے معشر قریش! تم نے دیکھ لیا کہ محمد نے تمہاری ساری باتوں کو ٹھکرا دیا ہے اور وہ اپنی اس فتنہ انگیزی سے کبھی باز نہیں آئے گا۔اب واللہ میں بھی اس وقت تک چین نہیں لوں گا کہ جب تک محمد کا سر کچل کر نہ رکھ دوں اور پھر بنو عبد مناف میرے ساتھ جو کرنا چاہیں کر گزریں۔بنو عبد مناف کے جو لوگ وہاں موجود تھے اور وہ وہی تھے جو بنو ہاشم اور بنو مطلب کے ماسوا تھے۔ان سب نے بیک آواز کہا۔” ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔تم محمد کے ساتھ جو کچھ کرنا چاہتے ہو بے شک کرو۔دوسرے دن ابو جہل ایک بڑا سا پتھر لے کر صحن کعبہ کے ایک طرف کھڑا ہو گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرنے لگا۔مگر جب آپ تشریف لائے تو اس کے دل پر کچھ ایسا رعب طاری ہوا کہ وہیں بت بن کر کھڑا رہا اور آگے بڑھ کر وار کرنے کی ہمت نہیں پڑی لے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خداداد رعب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ابوجبل کے مرعوب ہونے کے متعلق ایک اور روایت بھی آتی ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ خدائی سنت اسی طرح پر ہے کہ جولوگ خدا کے مرسلین کے سامنے زیادہ بیباک ہوتے ہیں عموماً انہیں پر خدا تعالیٰ اپنے رسولوں کا رعب زیادہ مسلّط کرتا ہے؛ چنانچہ لکھا ہے کہ ایک دفعہ اراسته نامی شخص مکہ میں کچھ اونٹ بیچنے آیا اور ابو جہل نے اُس سے یہ اونٹ خرید لیے مگر اونٹوں پر قبضہ کر لینے کے بعد قیمت ادا کرنے میں حیل و حجت کرنے لگا۔اس پر اراشہ جو مکہ میں ایک اجنبی اور بے یارومددگار تھا بہت پریشان ہوا اور چند دن تک ابو جہل کی منت و سماجت کرنے کے بعد وہ آخر ایک دن جبکہ بعض رؤسا قریش کعبتہ اللہ کے پاس مجلس جمائے بیٹھے تھے، ان لوگوں کے پاس گیا اور کہنے لگا اے معززین قریش آپ میں سے ایک شخص ابوالحکم نے میرے اونٹوں کی قیمت دبا رکھی ہے آپ مہربانی کر کے مجھے یہ قیمت دلوادیں۔قریش کو شرارت جو سو جھی تو کہنے لگے ایک شخص یہاں محمد بن عبداللہ نامی رہتا ہے تم اس کے پاس جاؤ۔وہ تمہیں قیمت دلا دے گا اور اس سے غرض ان کی یہ تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو بہر حال انکار ہی کریں گے اور اس طرح باہر کے لوگوں میں آپ کی سبکی اور جنسی ہوگی۔جب اراشہ وہاں سے لوٹا تو قریش نے اس کے پیچھے پیچھے ایک آدمی کر دیا کہ دیکھو کیا تماشا بنتا ہے؛ چنانچہ اراشہ اپنی سادگی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں ایک مسافر آدمی ل : ابن ہشام طبری و زرقانی