سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 181
۱۸۱ کے خوش ہو سکتے ہو تو تمہیں عرب کی بہترین لڑکی تلاش کر کے پیش کیے دیتے ہیں۔“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت خاموشی کے ساتھ رؤسائے قریش کی اس تقریر کوسنا اور جب وہ اپنی بات ختم کر چکے تو آپ نے فرمایا: "اے معشر قریش! مجھے ان چیزوں میں سے کسی کی تمنا نہیں ہے اور نہ مجھے کوئی آسیب یا بیماری لاحق ہے۔میں تو خدا کی طرف سے ایک رسول ہوں اور خدا کا یہ پیغام لے کر تمہاری طرف آیا ہوں اور میرا دل تمہاری ہمدردی سے معمور ہے۔اگر تم میری بات سنو اور مانو تو دین و دنیا میں تمہارا فائدہ ہے اور اگر تم اسے رڈ کر دو تو میں اس صورت میں صبر و تحمل کے ساتھ اپنے رب کے فیصلہ کا انتظار کروں گا۔قریش نے کہا۔” تو اے محمد ! گویا تم ہماری اس تجویز کو منظور نہیں کرتے۔اچھا! اگر تم نے اپنی رسالت ہی منوانی ہے تو آؤ اس کے متعلق فیصلہ کر لو۔تم دیکھتے ہو کہ ہمارا یہ ملک کس قدر بے آب و گیاہ ہے اور خشک پتھروں اور چٹانوں یا ریت کے بے پناہ تو دوں کے سوا یہاں کچھ نظر نہیں آتا۔اگر تم واقعی خدا کے رسول ہو تو اپنے خدا سے کہہ کر اس ملک میں بھی شام و عراق کی طرح نہریں جاری کروا دو اور ان پہاڑوں کو اڑا کر زرخیز میدان بنوا دو۔پھر ہم ضرور تمہاری رسالت کے قائل ہو جائیں گے۔آپ نے فرمایا ”میں تو خدا کی طرف سے ایک پیغامبر ہوں اور میرا کام صرف یہ ہے کہ تمہیں حق و باطل کا راستہ دکھا دوں اور تمہارے نفع نقصان کی بات تمہیں سمجھا دوں۔ہاں میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ اگر خدا کی آواز پر لبیک کہو گے تو خدا اپنے وقت پر ضرور تمہیں دین و دنیا کے انعامات کا وارث بنائے گا۔قریش نے کہا اچھا یہ بھی نہیں تو کم از کم تمہارے ساتھ خدا کا کوئی فرشتہ ہی اُتر تا نظر آتا اور محلات میں تمہارا بسیرا ہوتا اور تمہارے ہاتھ میں سونے چاندی کے ڈھیر ہوتے مگر ان میں سے کوئی چیز بھی تو تمہیں میتر نہیں ہے بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ تم ہماری طرح بازاروں میں پھرتے اور ہماری طرح اپنی روزی کے متلاشی ہوتے ہو۔پھر وہ کونسی علامت ہے جس سے ہم تمہیں خدا کا بھیجا ہوا سمجھ لیں۔‘‘ آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔میں ان باتوں کا اس رنگ میں مدعی نہیں ہوں جو تم ڈھونڈتے ہو۔ہاں یہ میں نے کہا ہے اور پھر کہتا ہوں کہ اگر تم مجھے مانو گے تو خدائی سنت کے مطابق دین و دنیا کی حسنات سے ضرور حصہ پاؤ گے۔“ قریش نے بگڑ کر کہا کہ اگر یہ بھی نہیں تو پھر وہ عذاب ہی لاؤ، جس کا تم وعدہ دیتے ہو۔آسمان کا کوئی ٹکڑا ہی ہم پر آ گرے۔یا فرشتوں کی کوئی فوج ہی خدائی جھنڈے کے نیچے ہمارے سامنے آدھمکے۔خدا کی قسم ہمیں تو اب بس یہی نظر آ رہا ہے کہ یا ہم زندہ رہیں گے یا تو رہے گا۔یہ کہہ کر وہ اپنے غصہ کو دباتے ہوئے خاموش ہو گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک مغموم دل کے ساتھ وہاں سے اُٹھ کر واپس 66