سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 176
اُن سے کہا۔” کیا آپ نے سنا کہ ابھی ابھی ابو الحکم (یعنی ابو جہل ) آپ کے بھتیجے کوسخت بُرا بھلا کہتا گیا ہے اور بہت گندی گندی گالیاں دی ہیں۔مگر محمد نے سامنے سے کچھ جواب نہیں دیا۔یہ سن کر حمزہ کی آنکھوں میں خون اتر آیا اور خاندانی غیرت جوش زن ہوئی۔فوراً کعبہ کی طرف گئے اور پہلے طواف کیا۔طواف کرنے کے بعد اس مجلس کی طرف بڑھے جس میں ابو جہل بیٹھا تھا اور جاتے ہی بڑے زور کے ساتھ ابو جہل کے سر پر اپنی کمان ماری اور کہا۔”میں سنتا ہوں کہ تو نے محمد کو گالیاں دی ہیں۔سن میں بھی محمد کے دین پر ہوں اور میں بھی وہی کہتا ہوں جو وہ کہتا ہے۔پس اگر تجھ میں کچھ ہمت ہے تو میرے سامنے بول۔ابو جہل کے ساتھی ابو جہل کی حمایت میں اُٹھے اور قریب تھا کہ لڑائی ہو جاتی مگر ابو جہل حمزہ کی دلیری اور جرات کو دیکھ کر مرعوب ہو گیا اور اُس نے اپنے ساتھیوں کو یہ کہہ کر روک دیا کہ حمزہ حق بجانب ہے واقعی مجھ سے زیادتی ہو گئی تھی اور اس طرح معاملہ رفع دفع ہو گیا۔حمزہ جوش میں یہ الفاظ تو کہ بیٹھے تھے کہ "میں بھی محمد کے دین پر ہوں۔لیکن جب گھر آئے اور غصہ کم ہوا تو کچھ گھبرائے اور سوچنے لگے کہ اب کیا کرنا چاہیئے آخر دل نے یہی فیصلہ کیا کہ اب شرک چھوڑ دینا ہی بہتر ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہو گئے نے یہ بعثت نبوی کے چھٹے سال کا واقعہ ہے جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ابھی دارارقم میں ہی مقیم تھے کہ حضرت حمزہ کے مسلمان ہونے کی خوشی میں یا ویسے ہی اپنے اخلاص کے جوش میں مگر بہر حال اُسی دن جس دن حمزہ مسلمان ہوئے حضرت ابوبکر نے صحن کعبہ میں برملا توحید کا اعلان کیا۔اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور بعض دوسرے مسلمان بھی وہاں موجود تھے۔قریش نے حضرت ابوبکر کی اس جسارت کو دیکھا تو جوش میں آکر اُن پر ٹوٹ پڑے اور اس بے دردی سے مارا کہ لکھا ہے کہ جب اُن کے قبیلہ کے لوگ انہیں اُٹھا کر اُن کے گھر لے گئے تو وہ بالکل بے ہوش تھے اور ضربات کی وجہ سے ان کا ناک منہ ایک ہو رہا تھا۔جب انہیں ہوش آیا تو ان کا پہلا سوال یہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے اور جب تک آپ کی خیریت کی خبر نہیں سنی حضرت ابو بکر کو چین نہیں آیا ہے اسلام عمر ابھی حضرت حمزہ کو اسلام لائے صرف چند دن ہی گذرے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایک اور خوشی کا موقع دکھایا یعنی حضرت عمرؓ جو ابھی تک اشد مخالفین میں سے تھے مسلمان ا : طبری وابن ہشام : الروض الانف لسبیلی ۴ : خمیس جلد اصفحه ۳۳۲ ے : زرقانی