سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 173 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 173

۱۷۳ ہے کہ آپ ان کو ہمارے ساتھ واپس بھجوا دیں۔درباریوں نے ان کی تائید کی لیکن نجاشی نے جو ایک بیدار مغز حکمران تھا یکطرفہ فیصلہ دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ لوگ میری پناہ میں آئے ہیں۔پس جب تک میں خود ان کا اپنا بیان نہ سن لوں میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔چنانچہ مسلمان مہاجرین دربار میں بلائے گئے اور اُن سے مخاطب ہو کر نجاشی نے پوچھا کہ ”یہ کیا معاملہ ہے اور یہ کیا دین ہے جو تم نے نکالا ہے؟“ حضرت جعفر بن ابی طالب نے مسلمانوں کی طرف سے جواب دیا کہ ”اے بادشاہ! ہم جاہل لوگ تھے۔بت پرستی کرتے تھے۔مُردار کھاتے تھے۔بدکاریوں میں مبتلا تھے۔قطع رحمی کرتے تھے۔ہمسایوں سے بد معاملگی کرتے تھے اور ہم میں سے مضبوط کمزور کا حق دبا لیتا تھا۔اس حالت میں اللہ نے ہم میں اپنا ایک رسول بھیجا جس کی نجابت اور صدق اور امانت کو ہم سب جانتے تھے۔اُس نے ہم کو تو حید سکھائی اور بت پرستی سے روکا اور راست گفتاری اور امانت اور صلہ رحمی کا حکم دیا اور ہمسایوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تعلیم دی اور بدکاری اور جھوٹ اور یتیموں کا مال کھانے سے منع کیا اور خونریزی سے روکا اور ہم کو عبادتِ الہی کا حکم دیا۔ہم اس پر ایمان لائے اور اس کی اتباع کی لیکن اس وجہ سے ہماری قوم ہم سے ناراض ہوگئی اور اُس نے ہم کو دکھوں اور مصیبتوں میں ڈالا اور ہم کو طرح طرح کے عذاب دیئے اور ہم کو اس دین سے جبر اروکنا چاہا۔حتی کہ ہم تنگ آ کر اپنے وطن سے نکل آئے اور آپ کے ملک میں آ کر پناہ لی۔پس اے بادشاہ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کے ماتحت ہم پر ظلم نہ ہو گا۔نجاشی اس تقریر سے بہت متاثر ہوا اور حضرت جعفر سے کہنے لگا کہ جو کلام تم پر اُتر ا ہے وہ مجھے سناؤ اس پر حضرت جعفر نے بڑی خوش الحانی کے ساتھ سورۃ مریم کی ابتدائی آیات پڑھ کر سنائیں۔یہ آیات سن کر نجاشی کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور اس نے رقت کے لہجہ میں کہا: خدا کی قسم یہ کلام اور ہمارے مسیح کا کلام ایک ہی منبع نور کی کرنیں معلوم ہوتی ہیں۔“ یہ کہہ کر نجاشی نے قریش کے وفد سے کہا۔” تم واپس چلے جاؤ۔میں ان لوگوں کو تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا۔‘ اور نجاشی نے ان کے تھنے بھی واپس کر دئیے۔لیکن قریش کے خونی سفیر اس طرح آسانی کے ساتھ خاموش نہیں کئے جاسکتے تھے۔دوسرے دن عمر و بن العاص نے دربار میں پھر رسائی حاصل کی اور نجاشی سے عرض کیا کہ حضور آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ یہ لوگ مسیح کے متعلق کیا کہتے ہیں؟ نجاشی نے مسلمانوں کو پھر بلا بھیجا۔مسلمان فکرمند ہوئے کہ چونکہ ہم مسیح کے ابن اللہ ہونے کے منکر ہیں اس لئے کہیں عمرو بن العاص کی یہ چال چل نہ جاوے۔مگر یہ لوگ تلوار کے سایہ کے نیچے بھی حق بات کہنے سے رکنے والے نہ تھے ، چنانچہ جب نجاشی نے پوچھا کہ ” تم مسیح کے متعلق کیا