سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 172
۱۷۲ ہے کہ مکہ اور حبشہ کے درمیان اس قلیل عرصہ میں تین سفر مکمل ہو سکے ہوں یعنی سب سے پہلے مسلمان مکہ سے حبشہ پہنچے۔اس کے بعد کوئی شخص قریش کے اسلام کی خبر لے کر ملکہ سے حبشہ گیا اور پھر مسلمان حبشہ سے روانہ ہو کر مکہ میں واپس آئے۔ان تین سفروں کی تکمیل قطع نظر اس عرصہ کے جو زائد امور میں صرف ہو جاتا ہے اس قلیل عرصہ میں قطعا ناممکن تھی۔اور اس سے بھی زیادہ یہ بات ناممکن تھی کہ سجدہ کے زمانہ سے لے کر مہاجرین حبشہ کی مذعومہ واپسی تک دوسفر مکمل ہو سکے ہوں کیونکہ اس زمانہ میں مکہ سے حبشہ جانے کے لئے پہلے جنوب میں آنا پڑتا تھا اور پھر وہاں سے کشتی لے کر جو ہر وقت موجود نہیں ملتی تھی بحر احمر کو عبور کر کے افریقہ کے ساحل تک جانا ہوتا تھا اور پھر ساحل سے لے کر حبشہ کے دارالسلطنت اکسوم تک جو ساحل سے کافی فاصلہ پر ہے پہنچنا پڑتا تھا۔اور اس زمانہ کے آہستہ سفروں کے لحاظ سے اس قسم کا ایک سفر بھی ڈیڑھ دو ماہ سے کم عرصہ میں ہر گز مکمل نہیں ہو سکتا تھا۔اس جہت سے گویا یہ قصہ سرے سے ہی غلط اور بے بنیاد قرار پاتا ہے لیکن اگر بالفرض اس میں کوئی حقیقت تھی بھی تو وہ یقینا اس سے زیادہ نہیں تھی جو اوپر بیان کی گئی ہے۔واللہ اعلم نجاشی کے دربار میں قریش کا نا کام وفد بہر حال قریش نے جب مسلمانوں کو اس طرح اپنے ہاتھوں سے صحیح سلامت نکلے جاتے دیکھا اور حبشہ میں ان کو امن و امان کی زندگی بسر کرتے پایا تو ان کے غضب کی آگ اور بھڑک اٹھی اور بالآ خر ا نہوں نے اپنے دو ممتاز ممبر یعنی ایک عمر و بن العاص اور دوسرے عبد اللہ بن ربیعہ کوحبشہ کی طرف روانہ کرنے کی تجویز کی اور اس وفد کے ساتھ نہ صرف نجاشی کے واسطے گراں قیمت تحفے تیار کئے بلکہ اس کے تمام درباریوں کے واسطے بھی تحائف تیار کئے گئے جو زیادہ تر چمڑے کے سامان کے تھے جس کے لئے ان دنوں میں عرب خاص شہرت رکھتا تھا اور اس طرح بڑے ٹھاٹھ کے ساتھ یہ وفد روانہ ہوا۔اس وفد کی غرض یہ تھی کہ مسلمانوں کو حبشہ سے واپس لا کر پھر ان کو اپنے مظالم کا تختہ مشق بنا ئیں؛ چنانچہ حبشہ میں پہنچ کر عمر و بن العاص اور ان کے ساتھی نے پہلے نجاشی کے درباریوں کے ساتھ ملاقات کی اور اُن کے سامنے تحائف پیش کئے اور پھر ان کے ذریعہ سے نجاشی کے دربار تک رسائی حاصل کی اور تحفے تحائف پیش کرنے کے بعد نجاشی سے ان الفاظ میں درخواست کی کہ : ”اے بادشاہ سلامت ہمارے چند بیوقوف لوگوں نے اپنا آبائی مذہب ترک کر دیا ہے اور ایک نیا دین نکالا ہے جو آپ کے دین کے بھی مخالف ہے اور ان لوگوں نے ملک میں فساد ڈال دیا ہے اور اب ان میں سے بعض لوگ وہاں سے بھاگ کر یہاں آگئے ہیں۔پس ہماری یہ درخواست