سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 167 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 167

۱۶۷ موجود تھے اور بعض مسلمان بھی تھے۔جب آپ نے سورۃ ختم کی تو آپ نے سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ ہی تمام مسلمان اور کا فر بھی سجدہ میں گر گئے۔کفار کے سجدہ کی وجہ حدیث میں بیان نہیں ہوئی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت پر اثر آواز میں آیات الہی کی تلاوت فرمائی اور وہ آیات بھی ایسی تھیں جن میں خصوصیت کے ساتھ خدا کی واحدانیت اور اس کی قدرت و جبروت کا نہایت فصیح و بلیغ رنگ میں نقشہ کھینچا گیا تھا اور اس کے احسانات یاد دلائے گئے تھے اور پھر ایک نہایت پر رعب و پر جلال کلام میں قریش کو ڈرایا گیا تھا کہ اگر وہ اپنی شرارتوں سے باز نہ آئے تو ان کا وہی حال ہوگا جو اُن سے پہلے اُن قوموں کا ہوا جنہوں نے خدا کے رسولوں کی تکذیب کی اور پھر آخر میں ان آیات میں حکم دیا گیا تھا کہ آؤ اور اللہ کے سامنے سجدہ میں گر جاؤ اور ان آیات کی تلاوت کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور سب مسلمان یکلخت سجدہ میں گر گئے تو اس کلام اور اس نظارہ کا ایسا ساحرانہ اثر قریش پر ہوا کہ وہ بھی بے اختیار ہو کر مسلمانوں کے ساتھ سجدہ میں گر گئے اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کیونکہ ایسے موقعوں پر ایسے حالات کے ماتحت جو اوپر بیان ہوئے ہیں بسا اوقات انسان کا قلب مرعوب ہو جاتا ہے اور وہ بے اختیار ہوکر ایسی حرکت کر بیٹھتا ہے جو دراصل اس کے اصول و مذہب کے خلاف ہوتی ہے؛ چنانچہ ہم نے دیکھا ہے کہ بعض اوقات ایک سخت اور نا گہانی آفت کے وقت ایک دہر یہ بھی اللہ اللہ یا رام رام“ پکار اٹھتا ہے اور قریش تو دہر یہ نہ تھے بلکہ بہر حال خدا کی ہستی کے قائل تھے۔پس جب اس پر رعب و پر جلال کلام کی تلاوت کے بعد مسلمانوں کی جماعت یکلخت سجدہ میں گر گئی تو اس کا ایسا ساحرانہ اثر ہوا کہ ان کے ساتھ قریش بھی بے اختیار ہو کر سجدہ میں گر گئے۔لیکن ایسا اثر عموماً وقتی ہوتا ہے اور انسان پھر جلد ہی اپنی اصل کی طرف لوٹ جاتا ہے؛ چنانچہ یہاں بھی ایسا ہی ہوا اور سجدہ سے اُٹھ کر قریش پھر وہی بت پرست کے بت پرست تھے۔بہر حال یہ ایک واقعہ ہے جو صحیح احادیث سے ثابت ہے۔پس اگر مہاجرین حبشہ کی واپسی کی خبر درست ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ کے بعد قریش نے جو مہاجرین حبشہ کے واپس لانے کے لیے بیتاب ہو رہے تھے اپنے اس فعل کو آڑ بنا کر خود ہی یہ افواہ مشہور کر دی ہوگی کہ قریش مکہ مسلمان ہو گئے ہیں اور یہ کہ اب مکہ میں مسلمانوں کے لئے بالکل امن ہے اور جب یہ افواہ مہاجرین حبشہ تک پہنچی تو وہ طبعاً اُسے سن کر بہت خوش ہوئے اور سنتے ہی خوشی کے جوش میں واپس آگئے لیکن جب وہ مکہ کے پاس ل : بخاری تفسیر سورۃ نجم ۲ : دیکھئے سورۃ نجم : ۶۳