سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 164 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 164

۱۶۴ اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔حتی کہ ایک شتر سوار صنعا (شام) سے لے کے حضر موت تک کا سفر کرے گا۔اور اس کو سوائے خدا کے اور کسی کا ڈر نہ ہوگا۔مگر تم تو جلدی کرتے ہو۔“ ایک اور موقع پر حضرت عبدالرحمن بن عوف مع چند دوسرے اصحاب کے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔یا رسول اللہ ہم مشرک تھے تو ہم معزز تھے۔اور کوئی ہماری طرف آنکھ تک نہیں اُٹھا سکتا تھا لیکن جب سے مسلمان ہوئے ہیں کمزور اور نا تواں ہو گئے ہیں اور ہم کو ذلیل ہو کر کفار کے مظالم سہنے پڑتے ہیں۔پس یا رسول اللہ ! آپ ہم کو اجازت دیں کہ ہم ان کفار کا مقابلہ کریں۔آپ نے فرمایا: إِنِّي أُمِرْتُ بِالْعَفْوِ۔فَلَا تُقَاتِلُوا یعنی ”مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عفو کا حکم ہے۔پس میں تم کو لڑنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔“ صحابہ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر قول کے سامنے سرتسلیم خم تھا۔انہوں نے صبر اور برداشت کا وہ نمونہ دکھایا کہ تاریخ اس کی نظیر لانے سے عاجز ہے۔بخاری باب علامات نبوت و باب مالقى النبى و اصحابه من المشركين ے نسائی بحوالہ تلخیص الصحاح جلد ا صفحه ۱۵۲