سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 130
۱۳۰ نے کبھی نہیں کیا؛ چنانچہ زمانہ نبوت میں آپ حضرت عائشہ سے فرماتے تھے کہ میں نے بتوں کے چڑھاوے کا کھانا کبھی نہیں کھایا۔اور ایک روایت میں حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! کیا آپ نے کبھی بتوں کو پوجا ہے۔آپ نے فرمایا نہیں۔پھر لوگوں نے پوچھا کیا آپ نے کبھی شراب پی ہے۔آپ نے فرمایا نہیں۔پھر فرمایا کہ میں ہمیشہ سے ان باتوں کو قابل نفرت سمجھتا رہا ہوں، لیکن اسلام سے پہلے مجھے شریعت اور ایمان کا کوئی علم نہیں تھا۔ہے آپ کے اخلاق و عادات یہ بتایا جا چکا ہے کہ بعثت سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے اندرامین کے لقب سے مشہور تھے جو آپ کی امانت و دیانت اور اخلاق فاضلہ کا بین ثبوت ہے۔آپ کی راست گفتاری کا یہ حال تھا کہ ابو جہل جیسا معاند جو آپ کے خون کا پیاسا تھا ایک دفعہ زمانہ نبوت میں آپ کو مخاطب ہو کر کہنے لگا : إِنَّا لَا نُكَلِّ بُكَ وَلَكِنْ نُكَذِّبُ بِمَا جِئْتَ بِهِ - اے محمد ! ہم تجھے جھوٹا نہیں کہتے بلکہ اس بات کو جھوٹا کہتے ہیں جو تو لایا ہے۔“ ابوسفیان ہرقل شہنشاہ روم کے سامنے پیش ہوا۔تو ہر قل نے اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھا: هَلْ كُنتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ ؟ ” کیا تم نے اس دعوی سے پہلے کبھی اس شخص کا کوئی جھوٹ دیکھا ؟“ ابوسفیان اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے برسر پر کار تھا لیکن اس سوال کے جواب میں اُسے بھی بجز ، یعنی ”نہیں“ کے کوئی جواب نہیں بن پڑا امیہ بن خلف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جانی دشمن تھا۔لیکن جب حضرت سعد بن معاذ نے اس کو یہ خبر سُنائی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تیری موت کی پیشگوئی کی ہے تو اُس کے اوسان خطا ہو گئے اور اس نے گھر جا کر اپنی بیوی سے یہ ذکر کیا اور کہا: وَاللهُ مَا يَكْذِبُ مُحَمَّدٌ إِذَا حَدَثَ "خُدا کی قسم۔محمد جب کوئی بات کہتا ہے تو جھوٹ نہیں بولتا۔“ پھر النظر بن الحارث اشد ترین معاندین اسلام میں سے تھا لیکن جب اس نے کسی شخص سے یہ کہتے : سيرة حلبيه جلد اباب ما حفظه الله : سيرة حلبيه باب ماحفظه الله : بخاری باب بدء الوحی ۵ : بخاری کتاب المغازی : ترندی