سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 118
۱۱۸ کی سب سے خطر ناک آخری لڑائی تھی جو حرب فجار کی چوتھی لڑائی کہلاتی ہے۔اس میں جوش کا یہ عالم تھا کہ بعض سرداروں نے اپنے آپ کو رسوں سے بندھوا دیا تھا کہ اگر بھاگنا چاہیں بھی تو نہ بھاگ سکیں۔دن کے شروع حصہ میں قیس عیلان کا پلہ بھاری رہا لیکن آخر میں بنو کنانہ نے دبا لیا اور قیس عیلان کی شکست کے بعد ہر دوفریق میں صلح ہوگئی۔اس لڑائی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی شریک تھے۔مگر بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے خود قتال نہیں کیا بلکہ آپ کی شرکت صرف اس حد تک محدود تھی کہ آپ فوج میں شامل تھے اور اپنے چاؤں کو تیر پکڑا تے جاتے تھے۔اس وقت آپ کی عمر میں سال کے قریب تھی۔اس لڑائی میں ہر قبیلہ کا افسر الگ الگ تھا۔چنانچہ بنو ہاشم زبیر بن عبدالمطلب کے ماتحت تھے مگر بنو کنانہ کی ساری فوج کا افسر حرب بن امیہ تھا جو ابوسفیان کا والد اور امیر معاویہ کا دادا تھا۔لے حلف الفضول قدیم زمانہ میں عرب کے بعض شریف دل اشخاص کو یہ خیال پیدا ہوا تھا کہ با ہم مل کر عہد کیا جاوے کہ ہم ہمیشہ حقدار کو اس کا حق حاصل کرنے میں مدد دیں گے اور ظالم کو ظلم سے روکیں گے اور عربی میں چونکہ حق کو فضل بھی کہتے ہیں جس کی جمع فضول ہے، اس لئے اس معاہدہ کا نام حلف الفضول رکھا گیا۔بعض روایتوں کی رُو سے چونکہ اس تجویز کے محرک ایسے شخص تھے جن کے ناموں میں فضل کا لفظ آتا تھا، اس لیے یہ عہد حلف الفضول کے نام سے مشہور ہو گیا۔بہر حال حرب فجار کے بعد اور غالباً اسی جنگ سے متأثر ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زبیر بن عبدالمطلب کے دل میں یہ تحریک پیدا ہوئی کہ اس حلف کو پھر تازہ کیا جاوے؛ چنانچہ اس کی تحریک پر بعض قبائل قریش کے نمائندگان عبد اللہ بن جدعان کے مکان پر جمع ہوئے جہاں عبداللہ بن جدعان کی طرف سے ایک دعوت کا انتظام تھا اور پھر سب نے اتفاق کر کے باہم قسم کھائی کہ ہم ہمیشہ ظلم کو روکیں گے اور مظلوم کی مدد کریں گے۔اس عہد میں حصہ لینے والوں میں بنو ہاشم ، بنو مطلب ، بنو اسد ، بنوزہرہ اور بنو تیم شامل تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس موقع پر موجود تھے اور شریک معاہدہ تھے؛ چنانچہ آپ ایک دفعہ نبوت کے زمانہ میں فرماتے تھے کہ میں عبداللہ بن جدعان کے مکان پر ایک ایسی قسم میں شریک ہوا تھا کہ اگر آج اسلام کے زمانہ میں بھی مجھے کوئی اس کی طرف بلائے تو میں اس پر لبیک کہوں گا اور شاید اسی خیال : روض الانف مصنفہ امام سہیلی جلد اصفهاا ل : ابن ہشام سے : یادر رکھنے کا مقام ہے کہ بنونوفل اور بنوامیہ اس موقع پر بھی بنو ہاشم سے الگ رہے۔