سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 114
۱۱۴ اسی قسم کے دوسرے واقعات سے جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ سے پہلے کسی عیسائی سے ملنا بیان ہوا ہے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا دعوی مسیحیت سے متاثر ہو کر کیا تھا اور آپ کی تعلیم اسی اثر کا نتیجہ تھی۔مگر یہ خیال بالکل غلط اور خلاف واقعہ ہے اور جس شخص کو آپ کی تعلیم اور سوانح کا تھوڑا بہت بھی مطالعہ ہے اور تعصب نے اُس کی آنکھ پر پر دہ نہیں ڈال رکھا وہ اس اعتراض سے کبھی دھوکا نہیں کھا سکتا۔بے شک یہ درست ہے کہ ہر ذی عقل انسان اپنی استعداد کے مطابق اپنے ماحول کا مطالعہ کرتا ہے اور ماحول کے حسن و قبیح کے نتیجہ میں اچھے یا بُرے تاثرات کا قائم ہونا بھی ایک فطری امر ہے۔پس اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی عیسائی کے ساتھ بعثت سے پہلے ملے ہوں گے اور آپ کو عیسائیت کی تعلیم کے سنے کا موقع میسر آیا ہوگا تو طبعاً آپ کے دل میں اس کے اچھے اور بُرے حصوں کے متعلق تاثرات بھی پیدا ہوئے ہوں گے۔مگر یہ خیال قطعاً غلط اور بے بنیاد ہے کہ آپ کی نبوت اور تعلیم ان تاثرات کا نتیجہ تھی۔کیونکہ اول تو بعثت سے پہلے آپ کا کسی عیسائی سے ایسے حالات میں ملنا ثابت نہیں کہ جس کے متعلق یہ سمجھا جا سکے کہ اُس نے آپ کی طبیعت پر کوئی گہرا اور مستقل اثر چھوڑا ہو۔لیکن اگر بالفرض اس قسم کا کوئی اثر تھا بھی تو یقینا وہ کوئی اچھا اثر نہیں تھا کیونکہ جیسا کہ ہر شخص جانتا ہے کہ آپ کی لائی ہوئی تعلیم میں عیسائیت کے اکثر اصولی مسائل سے شدید اختلاف پایا جاتا ہے مثلاً موجود الوقت عیسائی مذہب کی بنیادزیادہ تر اُلوہیت مسیح ، تثلیث اور کفارہ کے عقائد پر ہے۔مگر ایک بچہ بھی جانتا ہے کہ قرآن شریف میں ان تینوں مسائل کے خلاف نہایت سختی سے اظہارِ خیال کیا گیا ہے۔حتی کہ مسیح کی مزعومہ خدائی اور ابنیت کے متعلق یہاں تک الفاظ آتے ہیں کہ یہ ایسا عقیدہ ہے کہ قریب ہے کہ اس سے زمین و آسمان پھٹ جائیں۔اندریں حالات اسلام کی تعلیم کو عیسائیت کی طرف منسوب کرنا ایک مجنونانہ کوشش سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔باقی رہا یہ امر کہ قرآن شریف میں حضرت مسیح ناصری کی تعریف کی گئی ہے سو اس سے بھی مندرجہ بالا اعتراض کی تائید میں کوئی دلیل قائم نہیں ہوتی۔کیونکہ اول تو حضرت مسیح کی جو تعریف کی گئی ہے وہ بطور ایک نبی کے ہے نہ کہ بطور ابن اللہ یا خدا ہونے کے جو عیسائی مذہب کا دعوی ہے۔دوسرے یہ تعریف حضرت مسیح کے ساتھ خاص نہیں ہے۔کیونکہ قرآن شریف نے سارے گذشتہ انبیاء کی تعریف کی ہے اور انہیں نہایت بزرگ اور قابلِ احترام ہستیاں قرار دیا ہے بلکہ قرآن شریف نے بڑے زور کے ساتھ اس : سورۃ مریم آیت ۹۱ تا ۹۳