سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 107 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 107

۱۰۷ بہت بلند ہے۔چنانچہ اُس کی اپنی روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے پہلے ہم پر بہت تنگی کا وقت تھا ، مگر آپ کے آنے کے ساتھ یہ تنگی فراخی میں بدل گئی اور ہماری ہر چیز میں برکت نظر آنے لگی۔حلیمہ کا وہ لڑکا جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دودھ پیتا تھا اس کا نام عبد اللہ تھا اس کی ایک بڑی بہن بھی تھی جس کا نام شیما تھا جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت عزیز رکھتی تھی۔دو سال کے بعد جب رضاعت کی مدت پوری ہوئی تو دستور کے مطابق حلیمہ آپ کو لے کر مکہ میں آئی مگر اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اتنی محبت ہو چکی تھی کہ اُس کا دل چاہتا تھا کہ اگر ممکن ہو تو آپ کی والدہ سے اجازت لے کر آپ کو پھر واپس لے جاوے؛ چنانچہ اُس نے باصرار کہا کہ ابھی اس بچہ کو کچھ عرصہ اور میرے پاس رہنے دو۔میں اس کا ہر طرح خیال رکھوں گی۔آمنہ نے پہلے تو انکار کیا ، مگر پھر اس کے اصرار کو دیکھ کر اور یہ خیال کر کے کہ مکہ کی آب و ہوا سے باہر کی آب و ہوا اچھی ہے اور ان ایام میں مکہ کی آب وہوا کچھ خراب بھی تھی آمنہ نے مان لیا اور حلیمہ آپ کو لے کر پھر خوش خوش اپنے گھر لوٹ گئی اور اس کے بعد قریباً چار سال کی عمر تک آپ حلیمہ کے پاس رہے اور قبیلہ بنوسعد کے لڑکے لڑکیوں میں کھیل کود کر بڑے ہوئے۔اس قبیلہ کی زبان خاص طور پر صاف اور فصیح تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی زبان سیکھی۔حلیمہ آپ کو بہت عزیز رکھتی تھی اور قبیلہ کے تمام لوگ آپ کو محبت کی نظر سے دیکھتے تھے لیکن جب آپ کی عمر چار سال کی ہوئی تو ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس کی وجہ سے حلیمہ خوفزدہ ہوگئی اور آپ کو واپس مکہ میں لا کر آپ کی والدہ کے سپرد کر دیا۔یہ واقعہ تاریخ میں اس طرح پر مذکور ہے کہ ایک دفعہ آپ اپنے رضاعی بھائی کے ساتھ مل کر کھیل رہے تھے اور کوئی بڑا آدمی پاس نہ تھا کہ اچانک دوسفید پوش آدمی نظر آئے اور انہوں نے آپ کو پکڑ کر زمین پر لٹا دیا اور آپ کا سینہ چاک کر دیا۔یہ نظارہ دیکھ کر آپ کا رضائی بھائی عبداللہ بن حارث بھاگا ہوا گیا اور اپنے ماں باپ کو اطلاع دی کہ میرے قریشی بھائی کو دو آدمیوں نے پکڑ لیا ہے اور اس کا سینہ چاک کر رہے ہیں۔حارث اور حلیمہ یہ سنتے ہی بھاگے آئے تو دیکھا کہ کوئی آدمی تو وہاں نہیں ہے ، مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک خوفزدہ حالت میں کھڑے ہیں اور چہرہ کا رنگ متغیر ہو رہا ہے۔حلیمہ نے آگے بڑھ کر آپ کو گلے سے لگا لیا اور پوچھا ” بیٹا کیا بات ہوئی ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا ماجرا بتایا اور کہا کہ وہ کوئی چیز میرے سینہ