سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 106 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 106

1+7 کمزور ہیں۔یہ بھی روایت آتی ہے جو غالباً صحیح ہے کہ آپ کے ولادت کے زمانہ میں آسمان پر غیر معمولی کثرت کے ساتھ ستارے ٹوٹتے ہوئے نظر آتے تھے۔اسی طرح ایک روایت یہ بھی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قدرتی طور پر مخنتون پیدا ہوئے۔اگر یہ درست ہو تو کوئی تعجب کی بات نہیں کیونکہ بعض اوقات بچوں میں اس قسم کی قدرتی باتیں دیکھی گئی ہیں۔ایک اور بات بھی آپ میں قدرتی طور پر تھی اور وہ یہ کہ آپ کی پشت پر بائیں جانب ایک گوشت کا اٹھا ہوا ٹکڑا تھا جو عام طور پر مسلمانوں میں ختم نبوت یعنی مُہر نبوت کے نام سے مشہور ہے۔۔رضاعت اور ایام طفولیت مکہ کے شرفاء میں یہ دستور تھا کہ مائیں اپنے بچوں کو خود دودھ نہ پلاتی تھیں بلکہ عام طور پر بچے شہر سے باہر بدوی لوگوں میں دائیوں کے سپر د کر دیے جاتے تھے اس کا یہ فائدہ ہوتا تھا کہ جنگل کی کھلی ہوا میں رہ کر بچے تندرست اور طاقتور ہوتے تھے اور زبان بھی عمدہ اور صاف سیکھتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شروع شروع میں آپ کی والدہ نے اور پھر ثویبہ نے دُودھ پلایا۔ثویبہ آپ کے چچا ابولہب کی لونڈی تھی جسے ابولہب نے اپنے یتیم بھتیجے کی ولادت کی خوشی میں آزاد کر دیا تھا۔اسی ثویبہ نے حضرت حمزہ کو بھی دودھ پلایا تھا۔گویا اس طرح حمزہ جو آپ کے حقیقی چاتھے دودھ کے رشتہ سے آپ کے بھائی بن گئے۔تویہ کی یہ چند دن کی خدمت آنحضرت صلعم کبھی نہیں بھولے۔جب تک وہ زندہ رہی آپ ہمیشہ اس کی مددفرماتے رہے اور اُس کے مرنے کے بعد بھی آپ نے دریافت فرمایا کہ کیا اس کا کوئی رشتہ دار باقی ہے۔مگر معلوم ہوا کہ کوئی نہ تھا۔ثویبہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعت مستقل طور پر حلیمہ کے سپرد ہوئی جو قوم ہوازن کے قبیلہ بنی سعد کی ایک خاتون تھی اور دوسری عورتوں کے ساتھ مل کر مکہ میں دایہ کے طور پر کسی بچے کی تلاش میں آئی تھی۔ایک یتیم بچے کو اپنے ساتھ لے جاتے ہوئے حلیمہ ابتداء خوش نہ تھی ، کیونکہ اس کی خواہش تھی کہ کوئی زندہ باپ والا بچہ ملے جہاں زیادہ انعام واکرام کی اُمید ہو سکتی تھی۔چنا نچہ شروع میں اُس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ لے جانے سے تامل کیا مگر جب کوئی اور بچہ نہ ملا اور اس کے ساتھ کی سب عورتوں کو بچے مل چکے تھے تو وہ خالی ہاتھ جانے سے بہتر سمجھ کر آپ کو اپنے ساتھ لے گئی لیکن جلد ہی حلیمہ کو معلوم ہو گیا کہ جو بچہ وہ اپنے ساتھ لائی ہے۔اس کا ستارہ ل : زرقانی جلد اصفحه ۱۲۲ و خمیس جلد اصفحہ ۲۲۷ - ۲۲۸ ۲ : زرقانی و خمیس سے : زرقانی