سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 105 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 105

۱۰۵ ولادت با سعادت ابتدائی زندگی آمنہ کے نور کے ظہور کا وقت نزدیک آ رہا تھا اور وضع حمل کے دن قریب تھے۔وہ شعب بنی ہاشم میں رہتی تھیں اور اس وقت کے انتظار میں تھیں کہ جب اُن کے مرحوم شوہر کی یاد کو زندہ رکھنے والا بچہ دنیا کی روشنی میں آوے اور ان کے صدمہ رسیدہ دل کے لیے تسکین و راحت کا موجب ہو۔چنانچہ واقعہ اصحاب الفیل کے چھپیں روز بعد ۱۲ ؍ ربیع الاول مطابق ۲۰ را گست ۷۰ ۵ عیسوی کو یا ایک جدید اور غالباً صحیح تحقیق کی رُو سے ۹ ربیع الاول مطابق ۲۰ را پریل ۵۷۱ء بروز پیر بوقت صبح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی یا واقعہ فیل کے اس قدر متصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا ہونا اپنے اندر یہ خدائی اشارہ رکھتا تھا کہ جس طرح خدا نے کعبہ کے خلاف اس ظاہری حملہ کو خائب و خاسر کیا ہے اسی طرح اب وقت آتا ہے کہ دینِ الہی کے مقابل پر باطل پرستی کا سر کچلا جائے اور قرآن شریف میں اصحاب الفیل کے حملہ کا ذکر بھی بظاہر اسی غرض و غایت کے ماتحت نظر آتا ہے۔بہر حال بچہ کے پیدا ہوتے ہی آمنہ نے عبدالمطلب کو اطلاع بھجوا دی جو سنتے ہی فورا خوشی کے جوش میں آمنہ کے پاس چلے آئے۔آمنہ نے اُن کے سامنے لڑکا پیش کیا اور کہا کہ میں نے ایک خواب میں اس کا نام محمد دیکھا تھا۔عبدالمطلب بچے کو اپنے ہاتھوں میں اٹھا کر بیت اللہ میں لے گئے اور وہاں جا کر خدا کا شکر ادا کیا اور بچے کا نام محمد رکھا جس کے معنے ہیں ”بہت قابلِ تعریف‘ اور پھر اسے واپس لا کر خوشی خوشی ماں کے سپر د کر دیا ہے مؤرخین نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے متعلق بعض عجیب عجیب واقعات لکھے ہیں۔مثلاً یہ کہ اس وقت کسری شہنشاہ ایران کے محل میں سخت زلزلہ آیا اور اس کے چودہ کنگرے گر گئے اور فارس کا مقدس آتشکدہ جو صدیوں سے برابر روشن چلا آتا تھا دفعہ بُجھ گیا اور بعض دریا اور چشمے خشک ہو گئے اور یہ کہ آپ کے اپنے گھر میں بھی رنگا رنگ کے کرشمے ظاہر ہوئے وغیر ذالک۔مگر یہ روایتیں عموماً ل : محمود پاشا مصری : ابن ہشام