سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 104
۱۰۴ عبداللہ کی وفات عبداللہ کو نکاح کے بعد مصلحتِ الہی سے زیادہ مہلت نہیں ملی۔چنانچہ تھوڑے ہی عرصہ کے بعد جب وہ تجارت کے لیے شام کو گئے تو واپسی پر بیمار ہو کر یثرب میں ٹھہر گئے اور وہیں انتقال کیا اور اپنے رشتہ دار قبیلہ بنونجار کے درمیان دفن ہوئے۔اُس وقت اُن کی زوجہ آمنہ حمل سے تھیں یا اپنے اس بچہ کے لیے جو ابھی اپنی ماں کے بطن میں ہی تھا عبداللہ نے جو تر کہ چھوڑا وہ قابل ذکر ہے۔یعنی پانچ اونٹ۔چند بکریاں اور ایک لونڈی اُم ایمن۔یہ تر کہ اس کے لیے تھا جس نے ہر دو عالم کا بادشاہ بننا تھا۔عبدالمطلب کو جب اپنے فرزند عبداللہ کی بیماری کی خبر پہنچی تو اس نے فوراً اپنے بڑے بیٹے حارث کو مدینہ کی طرف روانہ کیا تا کہ وہ مدینہ جا کر عبداللہ کو اپنے ساتھ لے آوے مگر جب حارث مدینہ پہنچا، تو عبداللہ فوت ہو چکے تھے۔اُس نے واپس آ کر بڑھے باپ کو خبر دی کہ تیرا عزیز لڑکا اس جہان فانی سے گذر چکا ہے۔اس وقت عبدالمطلب کو جو صدمہ ہوا وہ قیاس ہی کیا جا سکتا ہے مگر اس صدمہ سے بہت بڑھ کر وہ صدمہ ہو گا جو آمنہ کے دل کو پہنچا جس کا شوہر اس غریب الوطنی کی حالت میں شادی سے تھوڑے ہی عرصہ بعد اسے داغ ہجرت دے گیا۔نئی نئی شادی کی حالت میں کم عمر لڑکیاں جو طبعا اپنے اندر شرم وحیا کا زیادہ مادہ رکھتی ہیں ایسے موقعوں پر اپنے غم والم کا اظہار نہیں کر سکتیں۔اس لیے اُن کو اندر ہی اندر صدمه برداشت کرنا پڑتا ہے۔اس سے اس تکلیف کا اندازہ ہوسکتا ہے جو اس موقع پر حضرت آمنہ کو اٹھانی پڑی ہوگی۔مگر خدا کی تسلی جلد ہی آمنہ کے سہارے کے لیے آئی۔چنانچہ انہی ایام میں آمنہ نے ایک خواب دیکھا کہ اُن کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا ہے اور انہیں خواب میں ہی بتایا گیا کہ اس لڑکے کا نام محمد رکھنا۔نیز انہوں نے یہ بھی خواب دیکھا کہ ان کے اندر سے ایک چمکتا ہوا نور نکلا ہے اور دُور دراز ملکوں میں پھیل گیا ہے۔: ابن سعد وزرقانی جلد اوّل صفحه ۱۰۹ : طبقات ابن سعد سے : سیرۃ ابن ہشام وزرقانی