سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 103
۱۰۳ پرندے کسی ایسی جگہ سے اُٹھ کر آئے ہوں جو کسی متعدی بیماری کے جراثیم سے ملوث ہو اور اس طرح اُن کے واسطے سے لشکر میں کوئی چیچک وغیرہ کی مہلک بیماری پھیل گئی ہو۔چنانچہ ابر ہ کے متعلق تو خاص طور پر ذکر آتا ہے کہ اُسے کوئی ایسی بیماری ہوئی تھی ، جس سے اس کا گوشت ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گر گیا تھا۔قرآن شریف میں اس واقعہ کا ذکر ان الفاظ میں آتا ہے: أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحُبِ الْفِيْلِ اَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِي تَصْلِيْلٍ وَ أَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيْلَن تَرْمِيْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِنْ سِجِيلٍ فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّأْكُولٍ 0 کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے اصحاب فیل کے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ کیا اُس نے اُن کی تجاویز کو خاک میں نہیں ملا دیا ؟ اس نے ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیجے جوان پر مٹی کے پتھریلے ریزے مارتے تھے۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک بوسیدہ بھوسے کی طرح کر دیا۔“ ابرھہ کا یہ حملہ تاریخ میں اصحاب الفیل کا حملہ کہلاتا ہے یعنی ہاتھی والوں کا حملہ۔جس کی وجہ یہ ہے کہ ابر ہہ کی فوج میں ایک ہاتھی یا بعض روایتوں کی رو سے متعدد ہاتھی بھی تھے۔چونکہ قریش مکہ کے لیے ہاتھی ایک عجیب اور نئی چیز تھی جو انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی ، اس لیے انہوں نے نہ صرف حملہ آوروں کا نام اصحاب الفیل رکھا بلکہ اس سال کا نام بھی عام الفیل رکھ دیا۔اصحاب الفیل کی تباہی سے کعبتہ اللہ کی عزت اور قریش کا رُعب بہت بڑھ گیا اور دوسرے قبائل عرب انہیں آگے سے بھی زیادہ عزت و احترام کی نظر سے دیکھنے لگے۔عبد اللہ کی شادی اصحاب الفیل کے واقعہ سے چند ماہ پیشتر عبدالمطلب نے آمنہ بنت وہب سے جو قریش کے قبیلہ بنوزہرہ میں سے ایک معزز گھرانے کی نہایت شریف لڑکی تھی اپنے لڑکے عبداللہ کی شادی کی۔اُس وقت عبد اللہ کی عمر پچیس سال کی یا بعض روایتوں کی رو سے سترہ سال کی تھی۔یہ اسی موقع پر آمنہ کی ایک چا زاد بہن ہالہ بنت وہب سے عبدالمطلب نے خود بھی شادی کی۔حمزہ اسی ہالہ کے بطن سے پیدا ہوئے۔ل : ابن ہشام وزرقانی ے : ابن ہشام : سورۃ الفیل آیت ۲ تا ۶ : خمیس و زرقانی