سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 102 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 102

۱۰۲ کعبہ کے مقابلہ پر کوئی اور معبد قائم ہو۔چنانچہ لکھا ہے کہ ایک عرب نے جوش میں آ کر اس معبد میں جا کر پاخانہ کر دیا۔ابرہہ کو اس بات کا علم ہوا تو اس نے غصہ میں آکر ارادہ کیا کہ مکہ پر فوج کشی کر کے کعبہ کو مسمار کر دے چنانچہ اُس نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی سے اجازت لی اور ایک بڑے بھاری لشکر کے ساتھ جس کی تعداد بعض روایات سے ساٹھ ہزار پتہ لگتی ہے اور بہر حال وہ ہزاروں پر مشتمل تھا ، یمن سے نکلا اور راستہ میں مختلف قبائل عرب کو شکست دیتا ہوا مکہ کے قریب پہنچ گیا اور شہر کے سامنے اپنی فوجیں ڈال دیں۔جب قریش کو اس کا علم ہوا تو وہ سخت پریشان ہوئے ، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ اس کے مقابلہ کی تاب نہیں رکھتے۔چنانچہ انہوں نے عبد المطلب کو ابرہہ کے پاس بطور وفد کے روانہ کیا۔عبدالمطلب کی وجیہ شکل اور نجابت نے ابرہہ پر بہت اچھا اثر کیا اور وہ اس سے بڑی عزت کے ساتھ پیش آیا اور اپنے ترجمان سے کہا کہ ان سے پوچھو وہ کیا چاہتے ہیں۔عبد المطلب نے جو شاید پہلے سے اس گفتگو کے طریق کو سوچ کر آیا تھا کہا کہ آپ کی فوج نے میرے اُونٹ پکڑ لیے ہیں وہ مجھے دلوا دئیے جائیں۔اُس نے اونٹ تو واپس دلوا دیئے ، مگر جو اثر اس کے دل پر عبد المطلب کی وجاہت اور قابلیت کا ہوا تھا وہ سب جاتا رہا اور اُس نے مُنہ بنا کر کہا میں تمہارے کعبہ کو مسمار کرنے کے واسطے آیا ہوں ، مگر تم نے اس کی فکر نہ کی اور اپنے اونٹوں کی فکر کی۔عبدالمطلب نے بے پروائی کے انداز میں کہا۔أَنَا رَبُّ الْإِبِلِ وَ لِلْبَيْتِ رَبِّ يَمْنَعُهُ - یعنی میں تو صرف اُونٹوں کا مالک ہوں ، اس لیے مجھے ان کا فکر ہے۔مگر اس گھر کا بھی ایک مالک ہے وہ خود اس کی حفاظت کرے گا۔ابرہہ نے یہ جواب سنا تو بہت بگڑا اور کہا کہ۔”اچھا پھر میں دیکھوں گا کہ اس گھر کا مالک مجھے اس سے کس طرح روکتا ہے۔چنانچہ وہ اپنے لاؤلشکر کو لے کر آگے بڑھا مگر خدائی تصرف ایسا ہوا کہ جو نہی کہ اس ہاتھی کا رُخ جس پر ابر ہر سوار تھا مکہ کی طرف کر کے اُسے چلایا گیا تو وہ چلنے سے رک گیا اور باوجود انتہائی کوشش کے آگے نہ بڑھا اور پھر اس لشکر پر ایسی آفت آئی کہ لشکر کا لشکر تباہ ہوکر پرندوں کی خوراک بن گیا۔اس کی تفصیل روایات میں یوں بیان ہوئی ہے کہ جب یہ لشکر مکہ کی طرف بڑھنا چاہتا تھا، تو اُس وقت خدائی تصرف کے ماتحت اُن کے اُوپر سے ایسے پرندوں کے غول گذرے جن کے پنجوں میں ایسی زہر آلود مٹی کے ریزے لگے ہوئے تھے کہ جس جس کے اوپر یہ ریزے گرتے تھے وہ ایک چیچک کی سی مہلک اور متعدی بیماری میں مبتلا ہو جاتا تھا اور جب لشکر میں ایک دفعہ یہ بیماری پھوٹی تو پھر بڑی سرعت سے ایک سے دوسرے کو لگتی چلی گئی اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ متعدی بیماریاں بسا اوقات مٹی کے ذرات یا دوسرے ذرائع سے پھیل جاتی ہیں۔پس بالکل ممکن ہے کہ یہ