سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 87 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 87

۸۷ پاک وصاف کرے۔بے شک تو غالب اور حکیم۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اسی دردمندانہ دعا کا نتیجہ تھی ؛ چنانچہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ اَنَا دَعْوَةُ إِبْرَا هِیمَ یعنی میں ابراہیم کی دُعا کا ثمرہ ہوں یا اعلان حج جب کعبہ کی تعمیر مکمل ہو چکی تو ذات باری تعالی کی طرف سے حضرت ابرا ہیم کو ارشاد ہوا: وَطَهَرُ بَيْتِيَ لِلطَّابِفِينَ وَالْقَابِمِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ وَاذِنْ فِي النَّاسِ بِالْحَقِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَ عَلَى كُلِ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ میرے اس گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کے واسطے پاک وصاف رکھ۔اور اعلان کر لوگوں میں کہ وہ اس کے حج کے لیے آئیں۔وہ آئیں گے تیرے پاس پیدل چل کر اور ڈبلی ڈبلی یعنی لمبے لمبے سفر کرنے والی اونٹنیوں پر سوار ہوکر جو ہر دور دراز رستے سے آئیں گی۔یہ اعلان کعبتہ اللہ کے مرکز بننے کی بنیاد ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے بعد جلدی ہی کعبہ تمام عرب کا مذہبی مرکز بن گیا اور عرب کے دُور دراز حصوں سے اُس کے حج کے لیے لوگ آنے لگے۔تولیت کعبہ یہ بتایا جا چکا ہے کہ مکہ میں سب سے پہلے آباد ہونے والا قبیلہ جرہم الثانیہ تھا۔ان کے رئیس مضاض بن عمرو کی لڑکی سے حضرت اسمعیل" کی شادی ہوئی جس سے بارہ بچے پیدا ہوئے۔جن میں سے بڑے کا نام نابت اور اُس سے چھوٹے کا نام قیدار تھا۔اہلِ عرب زیادہ تر قیدار بن اسمعیل کی اولاد ہیں اور قریش بھی قیدار کی نسل سے ہیں۔جب تک حضرت اسمعیل زندہ رہے ، وہ خود کعبہ کے متولی تھے لیکن ان کی وفات کے بعد اُن کے بڑے صاحبزادے نابت متوتی ہوئے۔جب یہ بھی وفات پاگئے تو کعبہ کی تولیت نابت کے نانا مضاض بن عمرو کے پاس آ گئی اور پھر ایک بڑے لمبے عرصہ تک قبیلہ جرھم ہی کے پاس رہی۔مگر ایک طویل زمانہ کے بعد بنو قحطان کی ایک شاخ قبیلہ خزاعہ نے قبیلہ جرھم پر غلبہ پالیا اور کعبہ کی تولیت اُن سے چھین لی۔قبیلہ جرھم کو مکہ سے نکالے جانے کا سخت صدمہ ہوا اور وہ یہاں سے نکل کر پھر یمن کی طرف ہجرت کر گئے لیکن مکہ سے نکلنے سے پہلے اُن کے رئیس عمرو بن الحرث نے اپنے قومی اموال کو چاہ زمزم میں ڈال کر ل : ابن عساکر بحوالہ جامع الصغیر : سورۃ حج آیت ۲۷ ، ۲۸