سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 893
۸۹۳ دیا گیا ہے (۴) مجھے شفاعت کا مقام عطا کیا گیا ہے اور (۵) مجھ سے پہلے ہر نبی اپنی خاص قوم کی طرف مبعوث ہوتا تھا مگر مجھے سب بنی نوع آدم کے لئے مبعوث کیا گیا ہے اور (ایک روایت میں یہ ہے کہ ) میں اسود واحمر کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پانچوں خصوصیات اپنے اندر نہایت شاندار پہلو رکھتی ہیں مگر اس جگہ ہمارا تعلق صرف پانچویں خصوصیت کے ساتھ ہے جس میں نہایت واضح الفاظ میں اعلان کیا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور اسلام کا پیغام دنیا کی ساری قوموں کے واسطے ہے نہ کہ صرف کسی ایک قوم کے واسطے۔اسلام کی دائمی شریعت پھر قرآنی شریعت کے دائگی اور ناقابل تنسیخ ہونے کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا یعنی اے لوگو میں نے آج تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی تمام نعمتوں کے دروازے کھول دئے اور میں نے تمہارے واسطے اسلام کا دین پسند کیا ہے۔“ روایت آتی ہے کہ ایک دفعہ بعض یہودیوں نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ آپ لوگوں پر ایک ایسی آیت (یعنی یہی الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ۔۔۔والی آیت اتری ہے کہ اگر وہ ہم پر اترتی تو ہم اس دن کو اپنے واسطے عید بنالیتے۔حضرت عمر نے جواب دیا کہ ہمارے لئے تو خدا نے اسے عید بنارکھا ہے کیونکہ یہ آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حج کے مقدس موقع پر اور عرفہ کے متبرک مقام میں نازل ہوئی تھی جبکہ اس کے بعد کا دن عیدالاضحی کا دن تھا اور مجھے یہ ساری تفصیل یاد ہے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود حدیث میں فرماتے ہیں کہ : إِنِّي آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ وَمَسْجِدِى هَذَا اخِرُ الْمَسَاجِدِ - E یعنی ” میں آخری نبی ہوں (میرے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو میرے دور نبوت کو منسوخ کر دے) اور میری یہ مسجد آخری مسجد ہے ( جس کے بعد کوئی ایسی عبادت گاہ نہیں ہو سکتی جو میری مسجد کو منسوخ کر کے نیا طریق عبادت جاری کر دے۔) : سورة المائده : ۴ بخاری کتاب التفسير سورة المائدة سے صحیح مسلم