سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 874
۸۷۴ اس معاہدہ کی خلاف ورزی کی۔ان اعتراضوں کے جواب میں سب سے پہلی بات تو یہ یاد رکھنی چاہئے کہ یہ معاہدہ قریش مکہ کے ساتھ ہوا تھا اور قریش مکہ وہ قوم تھی جو ابتدائے اسلام سے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف برسر پیکار چلی آتی تھی اور بات بات پر اعتراض کرنے اور طعنہ دینے کی عادی تھی اور ویسے بھی وہ کوئی دور دراز کی غیر قوم نہ تھی بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی ہی قوم تھی جسے سب حالات کا پورا پوراعلم تھا اور پھر شرائط معاہدہ کی تمام تفصیلات اور ان کا مکمل پس منظر بھی ان کی آنکھوں کے سامنے تھا۔پس جب مکہ کے قریش نے جو فریق معاہدہ تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل پر اعتراض نہیں کیا اور اسے معاہدہ کے خلاف نہیں سمجھا تو تیرہ سو سال بعد میں آنے والے لوگوں کو جن کی آنکھوں سے بہت سی جز کی تفاصیل پوشیدہ ہیں اور انہیں اس معاہدہ کے پس منظر پر بھی پوری طرح آگا ہی نہیں اعتراض کا حق کس طرح پیدا ہوسکتا ہے؟ یہ تو مدعی ست گواہ چست والا معاملہ ہوا کہ جن کے ساتھ یہ سارا قصہ گزرا ہے۔وہ تو اسے درست قرار دے کر خاموش رہتے ہیں مگر تیرہ سو سال بعد میں آنے والوں نے گویا آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے۔آخر یہ کیا وجہ ہے کہ باوجود اس کے کہ قرآن وحدیث اور عرب کی تاریخ ان اعتراضوں سے بھرے پڑے ہیں جو کفار مکہ اور دوسرے کفار عرب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کے خلاف کیا کرتے تھے مگر یہ ذکر کسی جگہ نہیں آتا کہ مسلمانوں پر صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا ہو۔علاوہ ازیں یہ بات مضبوط ترین شہادت سے ثابت ہے کہ جب صلح حدیبیہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قیصر روم کی طرف تبلیغی خط ارسال کیا اور اس وقت اتفاق سے ابوسفیان بن حرب رئیس مکہ بھی شام میں گیا ہوا تھا اور ہر قل شہنشاہ روم نے اسے اپنے دربار میں بلا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بعض سوالات کئے جن میں سے ایک سوال یہ بھی تھا کہ ” کیا تمہاری قوم کے اس مدعی نبوت نے کبھی کسی معاہدہ کی خلاف ورزی کی ہے؟ تو اس سوال کے جواب میں ابوسفیان نے جو اس وقت رأس المنکرین اور اسلام کا اشد ترین دشمن تھا جو الفاظ کہے وہ یہ تھے۔لا وَنَحْنُ مِنْهُ فِي مُدَّةٍ لَا نَدْرِى مَا هُوَ فَاعِلٌ فِيْهَا وَلا يُمْكِنُنِي كَلِمَةً اَدْخُلُ فِيْهَا شَيْئًا غَيْرَهذِهِ الْكَلِمَةِ یعنی نہیں۔محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے کبھی کسی معاہدہ کی خلاف ورزی نہیں کی ہاں آج بخاری باب کیف کان بدا الوحی