سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 854
۸۵۴ مگر بہر حال خدا کے فضل سے مسلمان اپنی جگہ ہوشیار تھے۔چنانچہ قریش کی اس سازش کا راز کھل گیا اور یہ لوگ سب کے سب گرفتار کر لئے گئے یا مسلمانوں کو اہل مکہ کی اس حرکت پر جو اشہرحرم میں اور پھر گویا حرم کے علاقہ میں کی گئی سخت طیش تھا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو معاف فرما دیا اور مصالحت کی گفتگو میں روک نہ پیدا ہونے دی۔یہ اہل مکہ کی اس حرکت کا قرآن شریف نے بھی ذکر کیا ہے چنانچہ فرماتا ہے: هُوَ الَّذِي كَفَ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ یعنی ”خدا نے اپنے فضل سے کفار کے ہاتھوں کو مکہ کی وادی میں تم سے روک کر رکھا اور تمہاری حفاظت کی اور پھر جب تم نے ان لوگوں پر غلبہ پالیا اور انہیں اپنے قابو میں کر لیا تو خدا نے تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک کر رکھا۔“ مسلمانوں کی طرف سے حضرت عثمان کی سفارت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کی اس شرارت کو دیکھا اور ساتھ ہی خراش بن امیہ سے اہل مکہ کے جوش وخروش کا حال سنا تو قریش کو ٹھنڈا کرنے اور راہ راست پر لانے کی غرض سے ارادہ فرمایا کہ کسی ایسے بااثر شخص کو مکہ میں بھجوائیں جو مکہ ہی کا رہنے والا ہو اور قریش کے کسی معزز قبیلہ سے تعلق رکھتا ہو۔چنانچہ آپ نے حضرت عمر بن الخطاب سے فرمایا کہ بہتر ہوگا کہ آپ مکہ میں جائیں اور مسلمانوں کی طرف سے سفارت کا فرض سرانجام دیں۔حضرت عمرؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ جانتے ہیں کہ مکہ کے لوگ میرے سخت دشمن ہورہے ہیں اور اس وقت مکہ میں میرے قبیلہ کا کوئی با اثر آدمی موجود نہیں جس کا اہل مکہ پر دباؤ ہو۔اس لئے میرا یہ مشورہ ہے کہ کامیابی کا رستہ آسان کرنے کے لئے اس خدمت کے لئے عثمان بن عفان کو چنا جائے جن کا قبیلہ بنو امیہ ) اس وقت بہت بااثر ہے اور مکہ والے عثمان کے خلاف شرارت کی جرات نہیں کر سکتے اور کامیابی کی زیادہ امید ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مشورہ کو پسند فرمایا اور حضرت عثمان سے ارشاد فرمایا کہ وہ مکہ جائیں اور قریش کو مسلمانوں کے لے : اس واقعہ کے بارے میں روایات کسی قدر مختلف ہیں۔ہم نے اس جگہ بغیر خاص تحقیق کے معروف روایات کو لے لیا ہے۔: ابن ہشام و طبری و زرقانی : سورة الفتح : ۲۵