سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 71 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 71

اے ہو اصلاح اس وقت سے زیادہ مشکل اور مایوس کن ہو۔۔۔۔عیسائی مذہب کی پانچ سو سال کی تبلیغی کوششوں کا یہی نتیجہ تھا کہ ملک میں خال خال عیسائی نظر آتے تھے اور بس۔یہودی مذہب زیادہ طاقتور تھا۔لیکن ایک تبلیغی مذہب کے طور پر وہ بھی اب گویا بالکل رہ چکا تھا، لیکن بُت پرستی اور بنو اسمعیل کے تو ہمانہ اعتقادات کا دریا ہر سمت سے جوش مارتا ہوا کعبہ کی دیواروں سے آ آ ٹکراتا تھا۔یہ حالت صرف عرب ہی کی نہ تھی بلکہ یہ وقت ساری دنیا پر ایک سخت تاریکی کا وقت تھا اور تمام مذاہب بگڑ چکے تھے اور گمراہی چاروں طرف اپنا دامن پھیلائے ہوئے تھی۔اسی طرف یہ آیت قرآنی اشارہ کرتی ہے کہ: ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ د یعنی اس وقت خشکی اور تری ہر دو میں فساد ظاہر ہو چکا ہے“ یعنی الہام الہی پر بنیا درکھنے والے مذاہب بھی خراب ہو چکے ہیں اور وہ مذاہب بھی جن کی بنیاد الہام پر نہیں ہے۔اب دیکھو کہ جب دنیا میں اندھیرا چھا جاتا ہے تو سورج نکلتا ہے اور جب زمین تپ جاتی ہے تو وہ بارش کو بھینچتی ہے تو روحانی اندھیرے کے بعد روحانی سورج نہ نکلتا ؟ اور کیا روحانی زمین کی تپش روحانی بارش کو نہ کھینچتی ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: نیز فرماتا ہے: يُقَلِبُ اللَّهُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ - و یعنی اللہ تعالیٰ رات اور دن کی حالت کو آپس میں بدلتا رہتا ہے اعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا : جان لو! اس وقت وہ زمین کو زندہ کر رہا ہے بعد اس کے کہ وہ مرچکی تھی، پس نا گہاں اس تاریکی کے زمانہ میں ایک سورج نکلا جس نے اپنی شعاعوں سے اطراف عالم میں اُجالا کر دیا اور اس شدید گرمی کے وقت میں اچانک ایک بادل اُٹھا جس نے پیاسی زمین پر رحمت کی ا: دیباچہ لائف آف محمد صفحه ۸۴ ، ۸۵ ۳ : سورة نور: ۴۵ ے : سورة روم: ۴۲ : سورة حديد : ۱۸