سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 844
۸۴۴ اس وقت مسلمانوں کے قریب پہنچا ہوا ہے اور اس دستہ میں عکرمہ بن ابو جہل بھی شامل ہے وغیرہ وغیرہ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر سنی تو تصادم سے بچنے کی غرض سے صحابہ کو حکم دیا کہ مکہ کے معروف رستہ کو چھوڑ کر دائیں جانب ہوتے ہوئے آگے بڑھیں۔چنانچہ مسلمان ایک دشوار گزار اور کٹھن رستہ پر پڑ کر سمندر کی جانب ہوتے ہوئے آگے بڑھنا شروع ہوئے لے جب آپ اس نئے رستہ پر چلتے ہوئے حدیبیہ کے قریب پہنچے جو مکہ سے ایک منزل یعنی صرف نومیل کے فاصلہ پر ہے۔اور حدیبیہ کی گھاٹیوں پر سے مکہ کی وادی کا آغاز ہو جاتا ہے تو آپ کی اونٹنی جو القصوا کے نام سے مشہور تھی اور بہت سے غزوات میں آپ کے استعمال میں رہ چکی تھی یکانت پاؤں پھیلا کر زمین پر بیٹھ گئی اور با وجود اٹھانے کے اٹھنے کا نام نہ لیتی تھی۔صحابہ نے عرض کیا کہ شاید یہ تھک گئی ہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہیں نہیں یہ تھکی نہیں اور نہ ہی اس طرح تھک کر بیٹھ جانا اس کی عادت میں داخل ہے بلکہ حق یہ ہے کہ جس بالا ہستی نے اس سے پہلے اصحاب فیل کے ہاتھی کو مکہ کی طرف بڑھنے سے روکا تھا اُسی نے اب اس اونٹنی کو بھی روکا ہے۔پس خدا کی قسم مکہ کے قریش جو مطالبہ بھی حرم کی عزت کے لئے مجھ سے کریں گے میں اسے قبول کروں گا۔اس کے بعد آپ نے اپنی اونٹنی کو پھر اٹھنے کی آواز دی اور خدا کی قدرت کہ اس دفعہ وہ جھٹ اٹھ کر چلنے کو تیار ہوگئی۔اس پر آپ اسے وادی حدیبیہ کے پر لے کنارے کی طرف لے گئے اور وہاں ایک چشمہ کے پاس ٹھہر کر اونٹنی سے نیچے اتر آئے اور اسی جگہ آپ کے فرمانے پر صحابہ نے ڈیرے ڈال دئے۔مسلمانوں کو پانی کی تکلیف اور تکثیر الماء کا معجزہ ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ صحابہ کی ایک پارٹی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ چشمہ کا پانی ختم ہو کر خشک ہو گیا ہے اور اب انسان اور جانور سخت تکلیف میں ہیں۔اس کے لئے کیا کیا جائے؟ آپ نے ایک تیر لیا اور حکم دیا کہ اس تیر کو خشک شدہ چشمہ کی تہ میں نصب کر ل : ابن ہشام وطبری حالات صلح حدیبیہ بخاری کتاب الشروط باب الشروط في الجهاد ابن سعد اس سے پہلے دوران سفر میں بھی ایک دفعہ پانی کی تکلیف ہو چکی تھی جب کہ ایک وقت ایسا آیا تھا کہ سوائے اس لوٹے کے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر استعمال تھا ہر برتن سے پانی خالی ہو گیا تھا۔اس موقع پر آپ نے صحابہ کی طرف سے پانی کی شکایت ہونے پر اپنے لوٹے کے منہ پر اپنا دست مبارک رکھا اور لوٹے کے منہ کو جھکاتے ہوئے صحابہ