سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 838
۸۳۸ کفار کی طرف سے تھی جنہوں نے بغیر کسی جائز وجہ کے محض اسلام کی عداوت میں بے گناہ مسلمانوں کے ساتھ اس قسم کا ظالمانہ اور وحشیانہ سلوک کیا اور جو کچھ ان کی سزا میں کیا گیا وہ محض قصاصی اور جوابی تھا اور تھا بھی ایسے حالات میں جب کہ اسلام کے خلاف سارا ملک دشمنی اور عداوت کی آگ سے بھڑک رہا تھا اور پھر یہ فیصلہ بھی موسوی شریعت کے مطابق کیا گیا تھا، لیکن پھر بھی اسلام نے اسے برقرار نہیں رکھا اور آئندہ کے لئے ایسے طریق سے منع کر دیا۔ان حالات میں کوئی عقل مند اس پر اعتراض نہیں کر سکتا۔اس موقع پر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ لوگ شروع سے ہی بری نیت کے ساتھ مدینہ میں آئے تھے اور غالبا اپنے قبیلہ کے سکھائے ہوئے تھے کہ تا مسلمانوں میں رہ کر انہیں نقصان پہنچائیں اور ممکن ہے کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بھی ان کا کوئی برا ارادہ ہو مگر جب مدینہ میں رہ کر انہیں کوئی موقع نہیں ملا تو انہوں نے یہ تجویز کی کہ مدینہ سے باہر نکل کر کارروائی کی جاوے۔ان کی اس نیت کا اس سے بھی پتہ لگتا ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کے چرواہوں کے ساتھ جو سلوک کیا وہ خالی چوروں اور لیٹروں والا سلوک نہیں تھا بلکہ سراسر منتقمانہ رنگ رکھتا تھا۔اگر وہ ابتدا میں سچے دل سے مسلمان ہوئے تھے اور بعد میں اونٹ دیکھ کر ان کی نیت بدل گئی تو اس صورت میں ہونا یہ چاہئے تھا کہ وہ اونٹ لے کر بھاگ جاتے اور اگر کوئی رکھوالا روک بنتا تو زیادہ سے زیادہ اسے مار کر نکل جاتے مگر جس رنگ میں انہوں نے مسلمان چرواہوں کو قتل کیا اور اپنے آپ کو خطرہ میں ڈال کر قتل کے سفا کا نہ فعل کولمبا کیا اور عذاب دے کر مارا اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا یہ فعل اتفاقی لالچ کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ سراسر معاندانہ رنگ رکھتا تھا اور دلی کینہ اور لمبے بغض کا نتیجہ تھا اور ان کے اس ظالمانہ فعل کے جواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ کیا وہ محض قصاصی اور جوابی تھا جو اسلامی احکام کے نزول سے پہلے موسوی شریعت کے مطابق کیا گیا لیکن اس کے بعد جلد ہی اسلامی احکام نازل ہو گئے اور اس قسم کی تعذیب انتقامی رنگ میں بھی ناجائز قراردے دی گئی چنا نچہ بخاری کے الفاظ یہ ہیں : اَنَّ النَّتِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ كَانَ يَحُثُ غُلَى الصَّدَقَةِ وَيَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ یعنی اس واقعہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم احسان اور حسن سلوک کی تاکید فرمایا 66 کرتے تھے اور ہر حال میں دشمنوں کے جسموں کے مثلہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔“ بعض مغربی محققین نے جن میں میور صاحب بھی شامل ہیں۔اس واقعہ کے حالات کا ذکر کرتے بخاری کتاب المغازی باب قصه عکل میور صفحه ۳۵۰