سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 810
۸۱۰ کمان میں ہوا تو بہر حال اس کی آخری ذمہ داری بھی زید پر ہی کبھی جائے گی اور زید کے متعلق یہ خیال کرنا کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو جانتے ہوئے اس قسم کے کام کی اجازت دی ہوگی ہرگز قابل قبول نہیں ہو سکتا۔بیشک اگر کوئی عورت کسی جرم کی مرتکب ہوتی ہے تو وہ اس جرم کی سزا پائے گی اور کسی مذہب کی شریعت اور کسی ملک کے قانون نے عورت کو جرم کی سزا سے مستثنے نہیں رکھا اور آئے دن عورتوں کی سزا بلکہ قتل کے جرم میں پھانسی تک کے واقعات چھپتے رہتے ہیں مگر محض مذہبی عداوت کی وجہ سے یا شرکت جنگ کی وجہ سے کسی عورت کا قتل کرنا اور قتل بھی اسی طریق پر کرنا جو اس روایت میں بیان ہوا ہے ایک ایسا فعل ہے جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اصولی ہدایت اور ساری اسلامی تاریخ صریح طور پر رڈ کرتی ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ یہ عورت مجرم تھی اور جیسا کہ بعض روایتوں میں بیان ہوا ہے اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا منصوبہ کیا تھا۔اس لیے اس کے خلاف جائز طور پر قتل کی سزا جاری کی جا سکتی تھی تو یہ درست ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ جب صحابہ نے اُم قرفہ سے سخت اور زیادہ خونی دشمنوں اور پھر مرد دشمنوں کو بھی کبھی اس طرح قتل نہیں کیا تو یہ خیال کرنا کہ زید بن حارثہ جیسے واقف کا صحابی کی کمان میں ایک بوڑھی عورت کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا ہو گا ہر گز قابل تسلیم نہیں ہوسکتا۔پس معقولی رنگ میں اس قصہ کا جھوٹا اور بناوٹی ہونا ظاہر وعیاں ہے اور کوئی غیر متعصب شخص اس میں شبہ کی گنجائش نہیں دیکھ سکتا۔اب رہا منقولی طریق سواوّل تو ابن سعد یا ابن اسحاق نے اس روایت کی کوئی سند نہیں دی اور بغیر کسی معتبر سند کے اس قسم کی روایت جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح ہدایت اور صحابہ کے عام اور معروف طریق کے خلاف ہو ہر گز قبول نہیں کی جاسکتی۔دوسرے یہ کہ یہی واقعہ حدیث کی نہایت معتبر کتب صحیح مسلم اور سنن ابوداؤد میں بیان ہوا ہے مگر اس میں اُم قرفہ کے قتل کئے جانے کا قطعاً کوئی ذکر نہیں ہے اور بعض دوسری تفصیلات میں بھی اس بیان کو ابن سعد وغیرہ کے بیان سے اختلاف ہے۔اور چونکہ صحیح احادیث عام تاریخی روایات سے یقیناً اور مسلمہ طور پر بہت زیادہ مضبوط اور قابل ترجیح ہوتی ہیں۔اس لئے صحیح مسلم اور سنن ابوداؤد کی روایت کے سامنے ابن سعد وغیرہ کی روایت کوئی وزن نہیں رکھتی۔یہ امتیاز اور بھی نمایاں ہو جاتا ہے جب ہم اس بات کو مدنظر رکھیں کہ جہاں ابن سعد اور ابن اسحاق نے اپنی روایتوں ل : زرقانی جلد ۲ صفحه ۱۶۳ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ابن اسحاق نے بروایت ابن ہشام صرف یہ لکھا ہے کہ ام قرفہ کوفتی کے ساتھ قتل کروا دیا گیا اور اس کی تفصیل نہیں دی تفصیل ابن سعد نے دی ہے۔