سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 798 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 798

۷۹۸ پھر ایک اور روایت آتی ہے کہ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا قِبَلَ السَّاحِلِ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَهُمْ ثَلَاثُ مِائَةٍ فَخَرَجْنَا وَ كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ فَنِيَ الزَّادُ فَأَمَرَا بُوْعُبَيْدَةَ بِأَزْوَادِ الْجَيْشِ فَجُمِعَ فَكَانَ مِزْوَ دَى تَمَرٍ فَكَانَ يُقَوِّتُنَا كُلَّ يَوْمٍ قَلِيلًا قَلِيلًا حَتَّى فَنِيَ فَلَمْ يَكُنُ يُصِيبُنَا إِلَّا تَمُرَةٌ تَمْرَةٌ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی ایک پارٹی ساحل سمندر کی طرف روانہ کی اور اس سریہ کا امیر (اپنے مقرب صحابی ابو عبیدہ بن جراح کو مقرر فرمایا اور یہ پارٹی تین سو صحابہ پر مشتمل تھی۔راوی کہتا ہے کہ ہم اس سر یہ میں نکلے لیکن ( رستہ بھول جانے کی وجہ سے ) ابھی ہم اس کے رستہ میں ہی تھے کہ ہمارا زاد کم ہونا شروع ہو گیا۔اس پر ابوعبیدہ نے حکم دیا کہ سب لوگوں کی خوراک کا ذخیرہ جمع کر لیا جائے تو یہ سارا جمع شدہ ذخیرہ دو تو شہ دان بنا۔اس کے بعد ابوعبیدہ ہمیں اس ذخیرہ میں سے تھوڑی تھوڑی خوراک تقسیم کرواتے تھے حتی کہ یہ ذخیرہ اتنا کم ہو گیا کہ بالآخر ہمارا راشن صرف ایک کھجور فی کس پر آ گیا۔“ اس روایت سے یہ بھاری اصول مستنبط ہوتا ہے کہ خاص ہنگامی حالات میں خوراک کے انفرادی ذخائر کو اکٹھا کر کے قومی ذخیرہ میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔اسی طرح ایک دوسری روایت آتی ہے کہ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنَّ الأَشْعَرِيِّينَ إِذَا اَرْمَلُوا فِي الْغَزُوِ اَوْ قَلَّ طَعَامُ عَيَالِهِمْ بِالْمَدِينَةِ جَمَعُوا مَا كَانَ عِنْدَهُمْ فِي ثَوْبِ وَاحِدِثُمَّ اقْتَسَمُوا بَيْنَهُمْ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ بِالسَّوِيَّةِ فَهُمْ مِنِّى وَأَنَا مِنْهُمْ یعنی " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اشعر قبیلہ کے لوگوں کا یہ طریق ہے کہ جب کسی سفر میں انہیں خوراک کا ٹوٹا پڑ جاتا ہے یا حضر کی حالت میں ہی ان کے اہل وعیال کی خوراک میں کمی آجاتی ہے تو ایسی صورت میں وہ سب لوگوں کی خوراک ایک جگہ جمع کر لیتے ہیں اور پھر اس جمع شدہ خوراک کو ایک ناپ کے مطابق سب لوگوں میں مساویانہ طریق پر بانٹ دیتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن کا میرے ساتھ حقیقی جوڑ ہے اور میرا ان کے ساتھ حقیقی جوڑ ہے۔“ بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ سيف البحر بخاری باب الشركة في الطعام