سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 793
۷۹۳ اقتصادی مساوات کے متعلق ایک خاص نکتہ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام نے کیوں نہ جبری طریق پر دولت کی تقسیم کو بھی مساوی کر دیا یعنی جس طرح اسلام نے عدالتی معاملات میں پوری پوری مساوات قائم کی اور قومی اور ملکی عہدوں کی تقسیم کے معاملہ میں پوری پوری مساوات قائم کی اور تمدنی میل ملاقات کے معاملہ میں برادرانہ مساوات کا رنگ قائم کیا اور سب انسانوں کو ایک باپ کے بیٹے اور سب مسلمانوں کو بھائی بھائی قرار دیا اسی طرح اس نے کیوں نہ دولت کو بھی سارے انسانوں میں برابر تقسیم کرنے کی سکیم جاری کی ؟ سواس سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ اسلام نے ایسا اس لئے نہیں کیا کہ ایسا کرنا ایک ظلم ہوتا اور اسلام ظلم کو مٹانے آیا ہے نہ کہ اسے قائم کرنے۔دولت کی اندھا دھند مساویانہ تقسیم کے یہ معنی ہیں کہ ایک تو لوگوں کی ساری حاصل شدہ دولت ان سے جبری طور پر چھین لی جائے اور دوسرے آئندہ ان سے دولت پیدا کرنے کی طاقت اور دولت پیدا کرنے کا حق بھی چھین لیا جائے اور یہ دونوں باتیں ظلم میں داخل ہیں۔بے شک قومی حقوق کی خاطر انفرادی حقوق پر جائز پابندیاں لگائی جاسکتی ہیں اور بے شک افراد سے یہ مطالبہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ وہ قومی مفاد کی خاطر ضروری قربانی دکھائیں۔مگر افراد کے حقوق کو کامل طور پر مٹا کر قوم کے نام پر ان کے حقوق کو کلیتا غصب کر لینا ظلم میں داخل ہے جس کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔علاوہ ازیں اگر غور کیا جائے تو اس رستہ پر پڑنے سے صرف انفرادیت ہی نہیں ملتی بلکہ بالآخر قومیت کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے کیونکہ قوم افراد کے مجموعہ کا نام ہے اور اگر افراد کو دولت کمانے اور اس کا پھل کھانے کے حق سے محروم کیا جائے گا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ان سے دولت پیدا کرنے کا سب سے زبر دست فطری محرک کھویا جائے گا اور ظاہر ہے کہ اس محرک کے کھوئے جانے سے وہ بالآخر دولت پیدا کرنے کی قوت کو بھی ضائع کر دیں گے اور آہستہ آہستہ ان کے دماغی قومی میں انحطاط پیدا ہو جائے گا۔بے شک یہ خطرہ اس وقت صرف ایک موہوم خطرہ نظر آتا ہے لیکن ہر شخص جو صحیح تدبر کا مادہ رکھتا ہے سمجھ سکتا ہے کہ ایک زمانہ کے بعد اس قسم کے قومی خطرات حقیقت بن جایا کرتے ہیں۔علاوہ ازیں دولت کی کامل طور پر مساویانہ تقسیم خود اشترا کی ممالک میں بھی نہیں پائی جاتی۔مثلاً کیا مارشل سٹالن اور مسٹر مالوٹو واور روس کے دوسرے صنادید اسی قسم کا کھانا کھاتے ہیں جیسا کہ روس کا مزدور یا کسان کھاتا ہے۔یا اسی قسم کا کپڑا پہنتے ہیں جیسا کہ روس کا مزدور اور کسان پہنتا ہے۔یا اسی قسم کے مکانوں میں رہتے ہیں جس میں کہ روس کا مزدور یا کسان رہتا ہے۔یا اسی قسم کے حالات میں سفر کرتے