سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 782
۷۸۲ وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس بات سے منع فرماتے تھے کہ کوئی شخص اپنی جگہ سے اس لئے اٹھایا جائے کہ تا اس کی جگہ کوئی دوسرا شخص بیٹھ جائے۔اور فرمایا کرتے تھے کہ اگر جگہ تنگ ہو اور زیادہ آدمی آجا ئیں تو پھر سب سمٹ سمٹ کر آنے والوں کے لئے گنجائش نکال لیا کرو۔“ یہی اصول نمازوں کے موقع پر مسجدوں میں ملحوظ رکھا گیا ہے جہاں کسی شخص کے لئے کوئی جگہ ریز رو نہیں ہوتی۔اگر ایک خادم پہلے آتا ہے تو وہ پہلی صف میں جگہ پائے گا اور اگر ایک آقا پیچھے پہنچتا ہے تو وہ آخری صف میں بیٹھے گا۔غرض خدا کے گھر میں امیر وغریب ، خادم وآقا، حاکم و محکوم ، طاقتور اور کمز ورسب برابر ہوتے ہیں اور کوئی امتیاز ملحوظ نہیں رکھا جاتا۔یہی حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کا تھا جس میں آپ اپنے صحابہ کے ساتھ اس طرح مل جل کر بیٹھتے تھے کہ بعض اوقات ایک اجنبی شخص کے لئے آپ کی مجلس میں اس بات کا جانا اور پہچاننا مشکل ہو جاتا تھا کہ آپ کون ہیں اور کہاں بیٹھے ہیں۔خادم و آقا کے تعلقات خادم و آقا کے تعلقات کا سوال بھی ایک بہت اہم سوال ہے مگر چونکہ اس سوال کے متعلق کتاب ہذا کے حصہ دوم میں مسئلہ غلامی کی ذیل میں اصولی بحث گزر چکی ہے اس لئے اس جگہ زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔صرف اس قدرا شارہ کافی ہے کہ خادموں اور غلاموں کی حالت کو بہتر بنانے کے لئے بھی اسلام نے نہایت تاکیدی ہدا یتیں دی ہیں مثلاً آقاؤں کو ہوشیار کرنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اصولی رنگ میں فرماتے ہیں : لک كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَّعِيَّتِه یعنی ” تم میں سے ہر شخص کسی نہ کسی جہت سے بعض دوسرے لوگوں کا آقا اور افسر ہوتا ہے پس ہر شخص کو ہوشیار رہنا چاہئے کیونکہ اسے اس کے سب ماتحت لوگوں کے متعلق پوچھا جائے گا۔“ اور خادموں اور آقاؤں کی درمیانی خلیج کو اڑانے کے متعلق فرماتے ہیں کہ : اِنَّ اِخْوَانَكُمْ خَوَلُكُمْ جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ اَيْدِيكُمْ فَمَنْ كَانَ أَخُوُهُ تَحْتَ يَدِهِ بخاری کتاب الادب صحیح مسلم کتاب الامارة نیز مسند احمد جلد ثانی صفحه ۵۵ بخاری ابواب الحجرت