سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 769
۷۶۹ فرمایا جو مدینہ سے چھتیں میل کے فاصلہ پر واقع تھا اور اس جگہ ان ایام میں بنو ثعلبہ کے لوگ آباد تھے مگر قبل اس کے کہ زید بن حارثہ وہاں پہنچتے اس قبیلہ کے لوگ بر وقت خبر پا کر ادھر ادھر منتشر ہو گئے اور زید اور ان کے ساتھی چند دن کی غیر حاضری کے بعد مدینہ واپس لوٹ آئے۔اس سر یہ میں مسلمانوں کا جنگی شعار امِتُ اَمِتْ تھا۔سریہ زید بطرف جسمی جمادی الآخرة ۶ ہجری اسی ماہ جمادی الآخرۃ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ کو پانچ سومسلمانوں کے ساتھ جسمی کی طرف روانہ فرمایا جو مدینہ کے شمال کی طرف بنو جذام کا مسکن تھا۔اس مہم کی غرض یہ تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی جن کا نام دحیہ کلبی تھا شام کی طرف سے قیصر روم کومل کر واپس آرہے تھے۔اور ان کے ساتھ کچھ سامان بھی تھا جو کچھ تو قیصر کی طرف سے خلعت وغیرہ کی صورت میں تھا۔اور کچھ تجارتی سامان تھا ہے جب دحیہ بنو جذام کے علاقہ کے پاس سے گزرے تو اس قبیلہ کے رئیس ہنید بن عارض نے اپنے قبیلہ میں سے ایک پارٹی کو اپنے ساتھ لے کر دحیہ پر حملہ کر دیا اور سارا سامان چھین لیا حتی کہ دحیہ کے جسم پر بھی سوائے پھٹے ہوئے کپڑوں کے کوئی چیز نہیں چھوڑی۔جب اس حملہ کا علم قبیلہ بنوضبیب کو ہوا جو قبیلہ بنوجذام ہی کی ایک شاخ تھے اور ان میں سے بعض لوگ مسلمان ہو چکے تھے تو انہوں نے بنو جذام کی اس پارٹی کا پیچھا کر کے ان سے لوٹا ہوا سامان واپس چھین لیا اور دحیہ اس سامان کو لے کر مدینہ میں واپس پہنچے۔یہاں آکر دحیہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سارے حالات سے اطلاع دی جس پر آپ نے زید بن حارثہ کو روانہ فرمایا اور دحیہ کو بھی زید کے ساتھ بھجوا دیا۔زید کا دستہ بڑی ہوشیاری اور احتیاط کے ساتھ دن کو چھپتا ہوا اور رات کے وقت سفر کرتا ہوا جسمی کی طرف بڑھا اور عین صبح کے وقت بنو جذام کے لوگوں کو جاد با یا۔بنوجذام نے مقابلہ کیا مگر مسلمانوں کے اچانک حملہ کے سامنے ان کے پاؤں نہ جم سکے اور تھوڑے سے مقابلہ کے بعد وہ بھاگ نکلے اور میدان مسلمانوں کے ہاتھ رہا اور زید بن حارثہ بہت سا سامان اور مال مویشی اور ایک سو کے قریب قیدی پکڑ کر واپس لوٹ آئے۔ابن سعد ه: زرقانی جبرئیل ان کی شکل میں نظر آئے تھے۔۲، ۳: ابن سعد ابن اسحاق بحوالہ زرقانی حالات سریع علمی وہی دحیہ کلبی ہیں جن کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مجھے