سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 756 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 756

۷۵۶ اور جب کسی نے اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے یہی سنا ہوا ہے کہ جب مسلمانوں کے اندر باہمی قتل و غارت کا دروازہ کھلےتو تم تلوار کوتو ڑ کر گھر میں اس طرح دبک کر بیٹھ جانا جس طرح کسی کمرہ میں اس کا فرش پڑا ہوا ہوتا ہے۔یہ حکم غالباً محمد بن مسلمہ کے لئے یا اس فتنہ کے لئے خاص تھا ورنہ بعض اوقات اندرونی فتنوں کا مقابلہ بھی ایک اعلیٰ دینی خدمت کا رنگ رکھتا ہے۔دوسرے صحابی ابوعبیدہ بن الجراح تھے۔یہ چوٹی کے صحابہ میں سے تھے اور قریشی تھے۔ان کی رفعت شان اس سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں امین الملت کا خطاب عطا فرمایا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر نے جن دو صحابہ کو خلافت کا اہل سمجھا تھا ان میں سے ایک یہ بھی تھے۔ابو عبیدہ حضرت عمرؓ کے عہد میں مرض طاعون سے وفات پا کر شہید ہوئے۔سریہ زید بن حارثہ بطرف بنی سلیم۔ربیع الآخر 4 ہجری اسی ماہ ربیع الآخر 4 ہجری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آزاد کردہ غلام اور سابق منیشی زید بن حارثہ کی امارت میں چند مسلمانوں کو قبیلہ بنی سلیم کی طرف روانہ فرمایا۔یہ قبیلہ اس وقت نجد کے علاقہ میں بمقام جموم آباد تھا اور ایک عرصہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف برسر پیکار چلا آتا تھا۔چنانچہ غزوہ خندق میں بھی اس قبیلہ نے مسلمانوں کے خلاف نمایاں حصہ لیا تھا۔جب زید بن حارثہ اور ان کے ساتھی جموم میں پہنچے جو مدینہ سے قریباً پچاس میل کے فاصلہ پر تھا تو اسے خالی پایا۔مگر انہیں قبیلہ مزینہ کی ایک عورت حلیمہ نامی سے جو مخالفین اسلام میں سے تھی اس جگہ کا پتہ لگ گیا جہاں اس وقت قبیلہ بنو سلیم کا ایک حصہ اپنے مویشی چرارہا تھا۔چنانچہ اس اطلاع سے فائدہ اٹھا کر زید بن حارثہ نے اس جگہ پر چھاپا مارا۔اس اچانک حملہ سے گھبرا کر اکثر لوگ تو ادھر ادھر بھاگ کر منتشر ہو گئے مگر چند قیدی اور مویشی مسلمانوں کے ہاتھ آگئے جنہیں وہ لے کر مدینہ کی طرف واپس لوٹ آئے۔اتفاق سے ان قیدیوں میں حلیمہ کا خاوند بھی تھا اور ہر چند کہ وہ حربی مخالف تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حلیمہ کی اس امداد کی وجہ سے نہ صرف حلیمہ کو بلا فدیہ آزاد کر دیا بلکہ اس کے خاوند کو بھی احسان کے طور پر چھوڑ دیا اور حلیمہ اور اس کا خاوند خوشی خوشی اپنے وطن کو واپس چلے گئے۔ہے ا لے اسد الغابہ حالات محمد بن مسلمہ : زرقانی : اسدالغابہ زیر نام ابوعبیده : ابن سعد جلد ۲