سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 753
۷۵۳ ذریعہ یمامہ کے بہت سے لوگ اسلام میں داخل ہو گئے۔اس کے بعد جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے قریب اور حضرت ابوبکر کی خلافت کے شروع میں مسیلمہ کذاب جھوٹے مدعی نبوت کے پیچھے لگ کر یمامہ کے بہت سے بادیہ نشین اسلام سے مرتد ہو گئے تو تمامہ نہ صرف خود نہایت پختگی کے ساتھ اسلام پر قائم رہا بلکہ اس نے اپنی والہا نہ جدو جہد سے بہت سے لوگوں کو مسیلمہ کے شر سے محفوظ کر کے اسلام کے جھنڈے کے نیچے جمع رکھا اور مسیلمہ کے فتنہ کے مٹانے میں نمایاں خدمات سرانجام دیں لے غزوہ عکاشہ بن محصن ربیع الاول ۶ ہجری اسی سال ماہ ربیع الاول میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک مہاجر صحابی عکاشہ بن محصن کو چالیس مسلمانوں پر افسر بنا کر قبیلہ بنی اسد کے مقابلہ کے لئے روانہ فرمایا۔یہ قبیلہ اس وقت ایک چشمہ کے قریب ڈیرہ ڈالے پڑا تھا جس کا نام عمر تھا جو مدینہ سے مکہ کی سمت میں چند دن کے فاصلہ پر واقع تھا۔عکاشہ کی پارٹی جلدی جلدی سفر کر کے غمر پہنچی تا کہ انہیں شرارت سے روکا جاسکے تو معلوم ہوا کہ قبیلہ کے لوگ مسلمانوں کی خبر پا کر ادھر ادھر منتشر ہو گئے تھے۔اس پر عکاشہ اور اس کے ساتھی مدینہ کی طرف واپس لوٹ آئے اور کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے عکاشہ فضلا صحابہ میں سے تھے اور اہل مکہ کے حلیف تھے۔وہ حضرت ابوبکرؓ کے عہد ستر ہزار آدمی بلاحساب جنت میں جائیں گے میں جنگ مرتدین میں شہید ہوئے۔تم میہ وہی بزرگ ہیں جن کے متعلق حدیث میں ذکر آتا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجلس میں ذکر فرمایا کہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے یعنی وہ ایسے روحانی مرتبہ پر فائز ہوں گے اور ان کے لئے خدائی فضل و کرم اس قدر جوش میں ہوگا کہ ان کے حساب کتاب کی ضرورت نہیں سمجھی جائے گی۔اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ان لوگوں کے چہرے قیامت کے دن اس طرح چمکتے ہوں گے جس طرح کہ چودہویں رات کا چاند آسمان پر چمکتا ہے۔اس پر عکاشہ نے عرض کیا۔یا رسول اللہ ! دعا فرمائیں کہ خدا تعالیٰ مجھے بھی ان لوگوں میں سے کر دے۔آپ نے اسی وقت دعا فرمائی کہ اے خدا تو اپنے فضل سے عکاشہ کو بھی ان لوگوں میں سے کر دے۔اس کے بعد ایک : طبقات ابن سعد واسد الغابہ حالات معمامہ بن اثال و زرقانی حالات سریہ قرطا یہ نام عکاشہ یعنی کاف کی تشدید سے بھی آتا ہے : ابن سعد اسدالغابه