سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 663
۶۶۳ کے لئے اسی طرح زور شور سے دھاوا کیا۔اور ایک دفعہ تو خود محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا خیمہ بھی خطرہ کی حالت میں ہو گیا تھا لیکن مسلمانوں کے بہادار نہ مقابلہ اور تیروں کی بارش نے حملہ آوروں کو پسپا کر دیا۔یہ حالت سارا دن جاری رہی اور چونکہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی فوج تعداد میں ایسی قلیل تھی کہ شہر کی حفاظت کے واسطے بمشکل کافی ہو سکتی تھی اس لئے مسلمانوں کو یہ سارا دن مسلسل طور پر مصروف رہنا پڑا۔بلکہ رات پڑنے پر بھی خالد کے دستے نے اس خطرہ کو جاری رکھا اور مسلمان اپنی ڈیوٹی سے فارغ نہیں ہو سکے ،لیکن دشمن کو کامیابی نصیب نہیں ہوئی۔یعنی وہ اس بات پر قادر نہیں ہو سکا کہ کسی بڑی تعداد میں خندق کو عبور کر سکے۔اس جنگ میں مسلمانوں کے پانچ آدمی مارے گئے اور اسی دن سعد بن معاذ رئیس قبیلہ اوس کو بھی ابن العرقہ کے تیر نے مہلک طور پر کلائی میں زخمی کیا۔اس کے مقابلہ میں اتحادیوں کے صرف تین آدمی قتل ہوئے۔اس دن کے مقابلہ کی سختی اور مسلسل مصروفیت کی وجہ سے مسلمان اپنی نمازیں بھی وقت پر ادا نہیں کر سکے۔چنانچہ جب رات کا ایک حصہ گزر چکا اور دشمن کا بیشتر حصہ آرام کرنے کے لئے اپنے کیمپ کی طرف لوٹ گیا، اس وقت مسلمانوں نے جمع ہو کر سارے دن کی نمازیں اکٹھی ادا کیں۔اور اس وقت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے کفار پر لعنت 66 بھیجتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیں نمازوں سے روکا ہے خدا ان کے پیٹوں اور ان کی قبروں کو جہنم کی آگ سے بھرے۔“ 1 میور صاحب کے اس دلچسپ نوٹ میں جو یہ بات بیان کی گئی ہے کہ اس دن مسلمانوں کی ساری نمازیں وقت پر ادا نہیں ہو سکیں یہ درست نہیں ہے بلکہ جیسا کہ صحیح روایات سے ثابت ہوتا ہے بات صرف یہ ہوئی تھی کہ چونکہ اس وقت تک صلوٰۃ خوف مشروع نہیں ہوئی تھی اس لئے بوجہ مسلسل خطرے اور مصروفیت کے صرف ایک نماز یعنی عصر بے وقت ہوگئی تھی جو مغرب کے ساتھ ملا کر پڑھی گئی۔ت اور بعض روایات کی رو سے صرف ظہر وعصر کی نماز بے وقت ادا ہوئی تھی۔سے علاوہ ازیں حضرت علی اور عمرو بن عبدود کے مقابلہ کے متعلق میور صاحب کا بیان بہت مختصر لائف آف محمد مصنفه سرولیم میور صفحه ۳۰۱،۳۰۰ صحیح بخاری حالات غزوہ خندق و نیز مسلم وترندی و ابوداؤ دو نسائی بحوالہ زرقانی جلد ۲ صفحہ ۱۲۳،۱۲۲ ے : مؤطا واحمد ونسائی بحوالہ زرقانی ہے۔