سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 650 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 650

اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَانُزِلَنْ سَكِيْنَةٌ عَلَيْنَا وَثَبِّتَ الْأَقْدَامَ إِنْ لَا قَيْنَا إِنَّ الْالَى قَدْ بَغَوُا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةٌ أَبَيْنَا یعنی اے ہمارے مولا ! اگر تیر افضل نہ ہوتا تو ہمیں ہدایت نصیب نہ ہوتی اور ہم صدقہ و خیرات کرنے اور تیری عبادت کرنے کے قابل نہ بنتے۔پس اے خدا! جب تو نے ہمیں اس حد تک پہنچایا ہے تو اب اس مصیبت کے وقت میں ہمارے دلوں کو سکینت عطا کر اور اگر دشمن سے مقابلہ ہو تو ہمارے قدموں کو مضبوط رکھ۔تو جانتا ہے کہ یہ لوگ ہمارے خلاف ظلم اور تعدی کے رنگ میں حملہ آور ہورہے ہیں اور ان کی نیت ہمیں اپنے دین سے بے دین کرنا ہے مگر اے ہمارے خدا! تیرے فضل سے ہمارا یہ حال ہے کہ جب وہ ہمیں بے دین کرنے کے لئے کوئی تدبیر اختیار کرتے ہیں تو ہم ان کی تدبیر کو دور سے ہی ٹھکرا دیتے ہیں اور ان کے فتنہ میں پڑنے سے انکار کرتے ہیں۔“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب آخری مصرعہ پر پہنچتے تھے تو اپنی آواز کو بلند فرما دیتے تھے۔ایک صحابی کی روایت ہے کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے وقت میں یہ اشعار پڑھتے ہوئے سنا کہ آپ کا جسم مبارک مٹی اٹھانے کی وجہ سے گردوغبار سے بالکل ڈھکا ہوا تھا۔بھوک اور فاقہ کشی کا یہ عالم تھا کہ اور صحابیوں کا تو کیا کہنا ہے خود سرور کائنات پر کئی کئی وقت کا فاقہ آجا تا تھا اور آپ اس کی تکلیف سے بچنے کے لئے پیٹ پر پتھر باندھے پھرتے تھے۔سے اسی تنگی اور شدت کی حالت میں خندق کھودتے کھودتے ایک جگہ سے ایک پتھر نکلا جو کسی طرح ٹوٹنے میں نہ آتا تھا اور صحابہ کا یہ حال تھا کہ وہ تین دن کے مسلسل فاقہ سے سخت نڈھال ہورہے تھے۔آخر تنگ آکر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ایک پتھر ہے جو ٹوٹنے میں بخاری حالات خندق بخاری کتاب المغازی حالات غزوہ احزاب و کتاب الجہاد ے عربوں میں قاعدہ تھا کہ بھوک کی سخت شدت کے وقت جبکہ کھانے کو کچھ نہیں ملتا تھا پیٹ پر حجر یعنی پتھر باندھ لیتے تھے جس سے جسم ضعف کی وجہ سے جھکنے سے محفوظ رہتا تھا اور غالباً اسی رسم سے اردو میں بھی یہ محاورہ قائم ہو گیا ہے کہ فلاں شخص پیٹ پر پتھر باندھے پھرتا ہے۔یا یہ بھی ممکن ہے کہ حجر سے مراد کمر کا پکا ہو کیونکہ عربی میں جبر کپڑے کو بھی کہتے ہیں دیکھو مجمع البحار۔واللہ اعلم