سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 628 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 628

۶۲۸ سے عرب کے بہت سے قبائل کو اسلام اور بانی اسلام کے خلاف کھڑا کر چکے تھے لیکن اب ان کی عداوت نے ایک نیا خطرہ پیدا کر دیا اور وہ یہ کہ حجاز کے وہ قبائل جو مسلمانوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے تھے اب وہ بھی قریش کی فتنہ انگیزی سے مسلمانوں کے خلاف اٹھنے شروع ہو گئے۔اس معاملہ میں پہل کرنے والا مشہور قبیلہ بنوخزاعہ تھا جن کی ایک شاخ بنو مصطلق نے مدینہ کے خلاف حملہ کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے اور ان کے رئیس حارث بن ابی ضرار نے اس علاقہ کے دوسرے قبائل میں دورہ کر کے بعض اور قبائل کو بھی اپنے ساتھ ملالیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس واقعہ کی اطلاع ملی تو آپ نے مزید احتیاط کے طور پر اپنے ایک صحابی بریدہ بن حصیب نامی کو دریافت حالات کے لئے بنو مصطلق کی طرف روانہ فرمایا اور ان کو تاکید فرمائی کہ بہت جلد واپس آکر حقیقتہ الا مر سے آپ کو اطلاع دیں۔بریدہ گئے تو دیکھا کہ واقعی ایک بہت بڑا اجتماع ہے اور نہایت زور شور سے مدینہ پر حملہ کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔انہوں نے فورا واپس آکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی ہے اور آپ نے حسب عادت مسلمانوں کو پیش بندی کے طور پر دیار بنو مصطلق کی طرف روانہ ہونے کی تحریک فرمائی اور بہت سے صحابہ آپ کے ساتھ چلنے کو تیار ہو گئے بلکہ ایک بڑا گر وہ منافقین کا بھی جو اس سے پہلے اتنی تعداد میں کبھی شامل نہیں ہوئے تھے ساتھ ہو گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پیچھے ابوذر غفاری نے یا بعض روایات کی رو سے زید بن حارثہ کے کو مدینہ کا امیر مقرر کر کے اللہ کا نام لیتے ہوئے شعبان ۵ ہجری میں مدینہ سے نکلے۔فوج میں صرف تمہیں گھوڑے تھے۔البتہ اونٹوں کی تعداد کسی قدر زیادہ تھی اور انہی گھوڑوں اور اونٹوں پر مل جل کر مسلمان باری باری سوار ہوتے تھے۔راستہ میں مسلمانوں کو کفار کا ایک جاسوس مل گیا جسے انہوں نے پکڑ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کیا اور آپ نے اس تحقیق کے بعد کہ وہ واقعی جاسوس ہے اس سے کفار کے متعلق کچھ حالات وغیرہ دریافت کرنے چاہے مگر اس نے بتانے سے انکار کیا اور چونکہ اس کا رویہ مشتبہ تھا اس لئے مروجہ قانون جنگ کے ماتحت حضرت عمرؓ نے اسے قتل کر دیا۔اور اس کے بعد لشکر اسلام آگے روانہ ہوا۔بنو مصطلق کو جب مسلمانوں کی آمد آمد کی اطلاع ہوئی اور یہ خبر بھی پہنچی کہ ان کا جاسوس مارا گیا ہے تو وہ بہت خائف ہوئے کیونکہ اصل منشا ان کا یہ تھا کہ کسی طرح مدینہ پر اچانک حملہ کرنے کا موقع مل جاوے میور صفحه ۲۸۶ : ابن ہشام وابن سعد ابن سعد ۵ : ابن سعد : ابن سعد ابن ہشام ك: ابن سعد : ابن سعد وزرقانی جلد ۲ صفحه ۹۶ : ابن سعد وزرقانی