سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 596
۵۹۶ نہیں ہے۔جب کشائش ہوگی تو زیادہ تیاری کے ساتھ مدینہ پر حملہ کریں گے۔اسلامی لشکر آٹھ دن تک بدر میں ٹھہرا اور چونکہ وہاں ماہ ذوقعدہ کے شروع میں ہر سال میلہ لگا کرتا تھا۔ان ایام میں بہت سے صحابیوں نے اس میلہ میں تجارت کر کے کافی نفع کمایا۔حتی کہ انہوں نے اس آٹھ روزہ تجارت میں اپنے رأس المال کو دو گنا کر لیا۔جب میلے کا اختتام ہو گیا اور لشکر قریش نہ آیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بدر سے کوچ کر کے مدینہ میں واپس تشریف لے آئے اور قریش نے مکہ میں واپس پہنچ کر مدینہ پر حملے کی تیاریاں شروع کر دیں۔یہ غزوہ غزوہ بدرالموعد کہلاتا ہے۔تزوج ام سلمہ شوال ۴ ہجری اسی سال ماہ شوال میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ سے شادی فرمائی۔ام سلمہ قریش کے ایک معزز گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں اور اس سے پہلے ابو سلمہ بن عبد الاسد کے عقد میں تھیں جو ایک نہایت مخلص اور پرانے صحابی تھے اور اسی سال فوت ہوئے تھے۔جب اُم سلمہ کی عدت ( یعنی وہ میعاد جو اسلامی شریعت کی رو سے ایک بیوہ یا مطلقہ عورت پر گزرنی ضرور ہوتی ہے پیشتر اس کے کہ وہ نکاح ثانی کرے ) گزرگئی تو چونکہ اُم سلمہ ایک نہایت سمجھ دار با سلیقہ اور قابل خاتون تھیں اس لئے حضرت ابو بکر کو ان کے ساتھ شادی کرنے کی خواہش پیدا ہوئی ہے مگر ام سلمہ نے انکار کیا۔آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خود اپنے لئے ان کا خیال آیا جس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ام سلمہ کی ذاتی خوبیوں کے علاوہ جن کی وجہ سے وہ ایک شارع نبی کی بیوی بننے کی اہل تھیں وہ ایک بہت بڑے پائے کے قدیم صحابی کی بیوہ تھیں اور پھر صاحب اولا د بھی تھیں جس کی وجہ سے ان کا کوئی خاص انتظام ہونا ضروری تھا۔علاوہ ازیں چونکہ ابوسلمہ بن عبدالاسد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی بھی تھے۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ کو اپنی طرف سے شادی کا پیغام بھیجا۔پہلے تو ام سلمہ نے اپنی بعض معذوریوں کی وجہ سے کچھ تامل کیا اور یہ عذر بھی پیش کیا کہ میری عمراب بہت زیادہ ہوگئی ہے اور میں اولاد کے قابل نہیں رہی۔لیکن چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غرض اور تھی اس لئے بالآخر وہ رضا مند ہو گئیں اور ان کی طرف سے ان کے لڑکے نے ماں کا ولی ہوکر ابن ہشام وابن سعد طبری و زرقانی جلد ۳ حالات ام سلمه ۵ بخاری کتاب النکاح باب وان تجمعوابين الاختين نسائی بحوالہ اصابه وزرقانی جلد۳ وا بن سعد حالات ام سلمه : ابن سعد نسائی کتاب النکاح باب النکاح الا بن امه