سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 586
۵۸۶ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تو یہ خبر گویا اسی بیٹوں کی وفات کی خبر کے مترادف تھی بلکہ اس سے بھی بڑھ کر کیونکہ ایک روحانی انسان کے لئے روحانی رشتہ یقیناً اس سے بہت زیادہ عزیز ہوتا ہے جتنا کہ ایک دنیا دار شخص کو دنیا وی رشتہ عزیز ہوتا ہے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان حادثات کا سخت صدمہ ہوا مگر اسلام میں بہر صورت صبر کا حکم ہے آپ نے یہ خبرسن کر إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھا اور پھر یہ الفاظ فرماتے ہوئے خاموش ہو گئے کہ هَذَا عَمَلُ اَبِي بَرَّاءَ وَقَدْ كُنْتُ لِهَذَا كَارِهَا مُتَخَوّفًا یعنی یہ ابو براء کے کام کا ثمرہ ہے ورنہ میں تو ان لوگوں کے بھجوانے کو پسند نہیں کرتا تھا اور اہل نجد کی طرف سے ڈرتا تھا۔واقعات بئر معونہ اور رجیع سے قبائل عرب کے اس انتہائی درجہ کے بغض و عداوت کا پتہ چلتا ہے جو وہ اسلام اور متبعین اسلام کے متعلق اپنے دلوں میں رکھتے تھے۔حتیٰ کہ ان لوگوں کو اسلام کے خلاف ذلیل ترین قسم کے جھوٹ اور دغا اور فریب سے بھی کوئی پر ہیز نہیں تھا اور مسلمان با وجود اپنی کمال ہوشیاری اور بیدار مغزی کے بعض اوقات اپنی مومنانہ حسن ظنی میں ان کے دام کا شکار ہو جاتے تھے۔حفاظ قرآن، نماز گزار، تہجد خوان، مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ کر اللہ کا نام لینے والے اور پھر غریب مفلس فاقوں کے مارے ہوئے یہ وہ لوگ تھے جن کو ان ظالموں نے دین سیکھنے کے بہانے سے اپنے وطن میں بلایا اور پھر جب مہمان کی حیثیت میں وہ ان کے وطن میں پہنچے تو ان کو نہایت بے رحمی کے ساتھ تہ تیغ کر دیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان واقعات کا جتنا بھی صدمہ ہوتا کم تھا مگر اس وقت آپ نے رجیع اور بئر معونہ کے خونی قاتلوں کے خلاف کوئی جنگی کارروائی نہیں فرمائی۔البتہ اس خبر کے آنے کی تاریخ سے لے کر برابر تمیں دن تک آپ نے ہر روز صبح کی نماز کے قیام میں نہایت گریہ زاری کے ساتھ قبائل رعل اور ذکوان اور عصیہ اور بنو لحیان کا نام لے لے کر خدا تعالیٰ کے حضور یہ دعا کی اے میرے آقا تو ہماری حالت پر رحم فرما اور دشمنان اسلام کے ہاتھ کو روک جو تیرے دین کو مٹانے کے لئے اس بے رحمی اور سنگدلی کے ساتھ بے گناہ مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں۔" ابن ہشام بخاری ابواب بئر معونہ روایت ابوطلحه عن انس