سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 513
۵۱۳ گیا اور اس سے مسلمانوں کے خلاف اعانت کا طلب گار ہوا۔اس بد بخت نے کمال جرات کے ساتھ سارے عہد و پیمان کو بالائے طاق رکھ کر ابوسفیان کی بڑی آؤ بھگت کی اور اسے اپنے پاس رات کو مہمان رکھا اور اس سے مسلمانوں کے حالات کے متعلق مخبری کی یا صبح ہونے سے قبل ابوسفیان وہاں سے نکلا اور اپنے لشکر میں پہنچ کر اس نے قریش کے ایک دستے کو مدینہ کے قریب عریض کی وادی میں چھاپہ مارنے کے لئے روانہ کر دیا۔یہ وہ وادی تھی جہاں ان ایام میں مسلمانوں کے جانور چرا کرتے تھے اور جو مدینہ سے صرف تین میل پر تھی اور غالباً اس کا حال ابو سفیان کو سلام بن مشکم سے معلوم ہوا ہوگا۔جب قریش کا یہ دستہ وادی عریض میں پہنچا تو خوش قسمتی سے اس وقت مسلمانوں کے جانور وہاں موجود نہ تھے۔البتہ ایک مسلمان انصاری اور اس کا ایک ساتھی اس وقت وہاں موجود تھے۔قریش نے ان دونوں کو پکڑ کر ظالمانہ طور پر قتل کر دیا۔اور پھر کھجوروں کے درختوں کو آگ لگا کر " اور وہاں کے مکانوں اور جھونپڑوں کو جلا کر ھے ابوسفیان کی قیام گاہ کی طرف واپس لوٹ گئے۔ابوسفیان نے اس کامیابی کو اپنی قسم کے پورا ہونے کے لئے کافی سمجھ کر لشکر کو واپسی کا حکم دیا۔دوسری طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوسفیان کے حملہ کی اطلاع ہوئی تو آپ صحابہ کی ایک جماعت ساتھ لے کر اس کے تعاقب میں نکلے ،مگر چونکہ ابوسفیان اپنی قسم کے ایفا کو مشکوک نہیں کرنا چاہتا تھا۔وہ ایسی سراسیمگی کے ساتھ بھا گا کہ مسلمان اس کے لشکر کو پہنچ نہیں سکے اور بالآخر چند دن کی غیر حاضری کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپس لوٹ آئے۔اس غزوہ کو غزوہ سویق کہتے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ جب ابوسفیان مکہ کو واپس لوٹا تو تعاقب کے خیال کی وجہ سے کچھ تو گھبراہٹ میں اور کچھ اپنا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے وہ اپنا سامان رسد جو زیادہ تر سویق یعنی ستو کے تھیلوں پر مشتمل تھا راستہ میں پھینکتا گیا تھا۔عیدالاضحی ذوالحجہ بجری عیدالفطر کے ذکر میں اسلامی عیدوں کا فلسفہ بیان کیا جا چکا ہے۔اس سال ماہ ذی الحجہ میں دوسری اسلامی عید یعنی عیدالاضحی مشروع ہوئی جو ماہ ذوالحجہ کی دسویں تاریخ کو تمام اسلامی دنیا میں منائی جاتی ہے۔اس عید میں علاوہ نماز کے جو ہر سچے مسلمان کی حقیقی عید ہے۔ہر ذی استطاعت مسلمان کے لئے واجب ہوتا ہے کہ اپنی طرف سے کوئی چوپایہ جانور قربان کر کے اس کا گوشت اپنے عزیز واقارب اور دوستوں اور ہمسایوں اور دوسرے لوگوں میں تقسیم کرے ابن ہشام و ابن سعد ابن ہشام ابن ہشام ه : ابن سعد : ابن ہشام وابن سعد طبری صفحه ۱۳۶۲