سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 506 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 506

صحیح و سقیم کا خود فیصلہ کر لیں اور ایسا کرنے میں اُن کی نیت یہ ہوتی تھی کہ کوئی بات جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی طرف منسوب ہوتی ہے خواہ وہ درست نظر آئے یا غلط وہ جمع ہونے سے نہ رہ جاوے۔یہی وجہ ہے کہ تاریخ کی ابتدائی کتابوں میں ہر قسم کے رطب و یابس کا ذخیرہ جمع ہو گیا ہے مگر اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ وہ سب قابل قبول ہیں بلکہ اب یہ ہمارا کام ہے کہ ان میں سے کمزور کو مضبوط سے جدا کر دیں۔بہر حال اس بات میں ذرہ بھر بھی گنجائش نہیں کہ کسی مسلمان محدث یا مؤرخ نے کبھی کسی روایت کو محض اس بنا پر رد نہیں کیا کہ وہ بظاہر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کی شان کے خلاف ہے یا یہ کہ اس کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا اسلام پر کوئی اعتراض وارد ہوتا ہے۔چنانچہ کعب بن اشرف اور ابو رافع یہودی کے قتل کے واقعات جو عصماء اور ابو عفک کے مزعومہ واقعات سے بالکل ملتے جلتے ہیں اور جن کا بیان آگے چل کر اپنے اپنے موقع پر آئے گا حدیث و تاریخ کی تمام کتابوں میں پوری پوری صراحت اور تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں اور کسی مسلمان را وی یا محدث یا مورخ نے ان کے بیان کو ترک نہیں کیا۔اندریں حالات عصماء اور ابو عفک یہودی کے قتل کا ذکر کسی حدیث میں نہ پایا جانا، بلکہ ابتدائی مؤرخین میں سے بعض مؤرخین کا بھی اس کے متعلق خاموش ہونا اس بات کو قریباً قریباً یقینی طور پر ظاہر کرتا ہے کہ یہ قصے بناوٹی ہیں اور کسی طرح بعض روایتوں میں راہ پا کر تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں۔پھر اگر ان قصوں کی تفصیلات کا مطالعہ کیا جاوے تو ان کا بناوٹی ہونا اور بھی یقینی ہو جاتا ہے۔مثلاً عصماء کے قصہ میں ابن سعد وغیرہ کی روایت میں قاتل کا نام عمیر بن عدی بیان کیا گیا ہے، لیکن اس کے مقابلہ میں ابن درید کی روایت میں قاتل کا نام عمیر بن عدی نہیں بلکہ مشمیر ہے۔سہیلکی ان دونوں ناموں کو غلط قرار دے کر یہ کہتا ہے کہ دراصل عصماء کو اس کے خاوند نے قتل کیا تھا۔جس کا نام روایتوں میں یزید بن زید بیان ہوا ہے۔اور پھر بعض روایتوں میں یہ آتا ہے کہ مذکورہ بالا لوگوں میں سے کوئی بھی عصماء کا قاتل نہیں تھا بلکہ اس کا قاتل ایک نامعلوم الاسم شخص تھا جو اسی کی قوم میں سے تھا۔مقتولہ کا نام ابن سعد وغیرہ نے عصماء بنت مردان بیان کیا ہے۔لیکن علامہ عبد البر کا یہ قول ہے کہ وہ عصماء بنت مروان نہیں تھی بلکہ دراصل عمیر نے اپنی بہن بنت عدی کو قتل کیا تھا۔ہے قتل کا وقت ابن سعد نے رات کا درمیانی حصہ لکھا ہے لیکن زرقانی کی روایت سے دن یا زیادہ سے زیادہ رات کا ابتدائی حصہ ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس میں یہ ل : زرقانی جلد اصفحه ۴۵۳ ۳ : ابن ہشام جلد ۳ صفحه ۹۱ : الروض الانف جلد ۲ صفحه ۳۶۴ : زرقانی جلد اصفحه ۴۵۴ ۵: استیعاب جلد ۲ صفحه ۴۴۰