سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 476
یہ سوال ہوسکتا ہے کہ عورتوں کو جنگوں میں پکڑا ہی کیوں جاتا تھا کہ اس قسم کے خطرات پیدا ہوتے۔اس کا جواب یہ ہے کہ اس زمانہ میں عرب میں یہ عام دستور تھا کہ عورتیں بھی کثرت کے ساتھ جنگ میں شریک ہوتی تھیں اور بعض اوقات جنگ میں عملی حصہ بھی لیتی تھیں اور میدان جنگ میں سپاہیوں کو جوش دلانے کا کام تو زیادہ تر عورتوں کے ہی سپرد ہوتا تھا۔پس کوئی وجہ نہیں تھی کہ ان حالات میں انہیں قید نہ کیا جا تا۔اگر فوجداری مقدمات میں عورت قید کی جاسکتی ہے اور ہر ایک ملک وقوم میں قید کی جاتی ہے تو کیوں جنگجو عورت میدان جنگ میں قید نہ کی جاتی؟ علاوہ ازیں چونکہ اس زمانہ میں کفار لوگ مسلمانوں کی عورتوں کو قید کرتے تھے بلکہ لونڈی تک بنا کر رکھتے تھے اور ان ابتدائی جنگوں میں تو ان بد باطنوں کی طرف سے یہ عام الٹی میٹم تھا کہ وہ مسلمان عورتوں کو قید کر کے اپنی لونڈیاں بنائیں گے اور لونڈیوں کی طرح ان سے تعلقات قائم کریں گے یا اس لئے خدائے اسلام نے جو اگر ایک طرف حلیم ہے تو دوسری طرف سب سے زیادہ غیرت مند بھی ہے۔مسلمانوں کو بھی اجازت دے دی کہ اگر ضرورت ہو تو وہ بھی کفار کے ساتھ اگر ویسا نہیں تو اسی قسم کا سلوک کر کے انہیں ہوش میں لائیں تا کہ وہ اپنے مظالم میں زیادہ شوخ اور دلیر نہ ہوتے جائیں۔جنگی ضروریات سے واقف لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ بسا اوقات جنگوں میں انتقامی طریق اختیار کئے جانے کی ضرورت پیش آجاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ جنگی قانون سول قانون سے ہمیشہ مختلف ہوتا ہے۔پس یہ ایک ناگزیر حالات کی مجبوری تھی جس کے بغیر چارہ نہیں تھا اور جب یہ صورت حال پیدا ہوگئی کہ عورتیں قید میں آتی تھیں اور نیز یہ کہ کفار لوگ مسلمان عورتوں کے ساتھ ہر قسم کا سلوک روا ر کھتے تھے تو اس کے لازمی اور خطرناک نتائج کے سدباب کے لئے کوئی خاص قانون جاری کرنا بھی ضروری تھا۔البتہ چونکہ موجودہ زمانہ میں کفار لوگ مسلمانوں کے ساتھ اس قسم کا سلوک نہیں کرتے اور اگر عورتیں قید بھی ہوں تو انہیں شاہی قیدی کے طور پر رکھا جاتا ہے اس لئے اصولی قرآنی حکم کے مطابق جو او پر درج کیا گیا ہے اس زمانہ میں مسلمانوں کے لئے بھی یہ نا جائز ہوگا کہ وہ کفار کی عورتوں کو بلا کسی حقیقی مجبوری کے قید کریں یا قید کرنے کے بعد انہیں مسلمانوں کی انفرادی حراست میں دے کر کوئی رنگ غلامی کا پیدا کریں۔اس جگہ اگر کسی کو شبہ پیدا ہو کہ ایسا کیوں ہے کہ بعض حالات میں شریعت اسلامی کا فتویٰ اور ہوتا ہے اور بعض میں اور تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ کوئی نقص کی بات نہیں بلکہ اگر غور کیا جاوے تو یہی بات اسلامی شریعت کے کامل اور عالمگیر ہونے کی دلیل ہے کیونکہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلامی شریعت میں ابوداؤ د کتاب جہا د باب في خبر النفير ۲: چشمه معرفت صفحه ۲۴۵