سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 431
۴۳۱ مسلمان ہونے والے غلاموں پر رؤساء مکہ نے کیسے کیسے سخت مظالم کئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خدا سے الہام پا کر رسالت کا دعویٰ کیا تو آپ کی ابتدائی تعلیمات میں یہ بات بھی داخل تھی کہ غلاموں کے ساتھ نرمی اور شفقت کا سلوک ہونا چاہئے۔اور غلاموں کے آزاد کئے جانے کے متعلق بھی آپ نے اسی ابتدائی زمانہ میں تحریک شروع کر دی تھی بلکہ اس بارہ میں تو خصوصیت کے ساتھ ایک قرآنی وحی بھی نازل ہوئی کہ غلام کا آزاد کرنا ایک بہت بڑی نیکی ہے۔اسلامی تعلیم کی خوبی اور کشش کے ساتھ اس مخصوص تعلیم نے مل کر عرب کے غلاموں پر ایک نہایت گہرا اثر پیدا کیا اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز کو اپنے لئے ایک نجات دہندہ کی آواز سمجھنے لگ گئے۔یہی وجہ تھی کہ با وجو دان نہایت درجہ بے دردانہ مظالم کے جو رؤساء مکہ مسلمان ہونے والوں پر کرتے تھے ، غلاموں میں اسلام بڑی سرعت کے ساتھ پھیلنا شروع ہو گیا۔چنانچہ جیسا کہ کتاب کے حصہ اول میں بیان کیا جا چکا ہے ابتدائی مسلمانوں میں غلاموں کی نسبت غیر معمولی طور پر زیادہ تھی اور تاریخ سے ثابت ہے کہ یہ لوگ ابتدائی زمانہ میں بھی اسلامی سوسائٹی میں ہرگز ذلیل نہیں سمجھے جاتے تھے۔اس کے بعد جوں جوں اسلامی احکام نازل ہوتے گئے غلاموں کی پوزیشن زیادہ مضبوط اور ان کی حالت زیادہ بہتر ہوتی گئی اور بالآخر اس انتظامی فرق کے سوا کہ ایک افسر ہوتا تھا اور دوسرا اس کے ماتحت کوئی اور امتیاز باقی نہ رہا۔دوسری طرف غلاموں کی آزادی کی تحریک بھی دن بدن زیادہ مضبوط ہوتی گئی اور مسلمانوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پر زور تعلیم اور آپ کے عملی نمونہ کے ماتحت ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر اس تحریک میں حصہ لیا۔چنانچہ قرآن شریف اور کتب حدیث و تاریخ اس کی تفاصیل سے بھری پڑی ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس معاملہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کام صرف اس حد تک محدود رہا ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے اور آپ نے غلامی کے ناجائز اور ظالمانہ طریقوں کو منسوخ کرنے کے لئے کوئی تدابیر اختیار نہیں کیں؟ اگر یہی ہے تو گو پھر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے ایک عظیم الشان محسن قرار پاتے ہیں کہ آپ نے غلاموں کی حالت کو بہتر بنانے اور ان کی آزادی کی تحریک جاری کرنے اور اس تحریک کو عملی جامہ پہنانے میں ایک نہایت نمایاں خدمت سر انجام دی مگر یقینا اس سے آپ کا وہ حقیقی کام پردہ میں رہتا ہے جو آپ کی اس تحریک کی اصل روح رواں تھا کیونکہ جہاں تک ہماری تحقیق ہے اور یہ تحقیق خوش عقیدگی کا ثمرہ نہیں بلکہ تاریخی واقعات پر مبنی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف غلاموں : سورة البلد : ۱۱ تا ۱۴