سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 423 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 423

۴۲۳ ابولہب جو جنگ میں شامل نہیں ہوا تھا وہ بھی قریش کی بھگوڑی فوج کے مکہ پہنچنے کے چند دن بعد ہی مکہ میں مر گیا۔گویا کہ وہ خدائی حکم جس کی مار رؤساء مکہ پر پڑی ایک اٹل نقد میتھی۔دوسری طرف جنگ بدر کے نتیجے میں مسلمانوں کی پوزیشن نمایاں طور پر مضبوط ہوگئی تھی کیونکہ اوّل تو اس عظیم الشان اور غیر متوقع فتح کی وجہ سے قبائل عرب پر مسلمانوں کا ایک قسم کا رعب بیٹھ گیا تھا۔دوسرے خود مسلمانوں کی ہمتیں بھی لازماً بلند ہوگئی تھیں اور ایک جائز رنگ خود اعتمادی کا پیدا ہو گیا تھا۔اس فتح کا یہ نتیجہ بھی ہوا کہ منافقین مدینہ مرعوب ہو کر دب گئے اور چونکہ یہ فتح بالکل غیر متوقع حالات میں حاصل ہوئی تھی اور فریقین کے لئے اپنے نتائج اور اثرات کے لحاظ سے ایک عظیم الشان قومی یادگار تھی اس لئے مسلمانوں میں جنگ بدر ایک خاص نظر سے دیکھی جانے لگی۔چنانچہ جن صحابہ نے اس جنگ میں حصہ لیا تھاوہ دوسروں سے ممتاز سمجھے جاتے تھے۔حتی کہ ایک دفعہ ایک بدری صحابی سے کوئی سخت غلطی سرزد ہوگئی اور حضرت عمرؓ نے اسے ایک قومی غدار سمجھ کر (حالانکہ در اصل وہ ایک مخلص صحابی تھا مگر اس سے یہ غلطی ہوگئی تھی ) اسے سزا دینی چاہی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا اور فرمایا کہ ” عمر ا تم جانتے نہیں ہو کہ یہ شخص بدری ہے اور بدریوں کی اس قسم کی غلطیاں اللہ کے نزدیک معاف ہیں۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں بھی جب صحابہ کے وظیفے مقرر ہوئے تو بدری صحابیوں کا وظیفہ ممتاز طور پر خاص مقرر کیا گیا۔خود بدری صحابہؓ بھی جنگ بدر کی شرکت پر خاص فخر کرتے تھے۔چنانچہ میور صاحب لکھتے ہیں: بدری صحابی اسلامی سوسائٹی کے اعلیٰ ترین رکن سمجھے جاتے تھے۔سعد بن ابی وقاص جب اتنی سال کی عمر میں فوت ہونے لگے تو انہوں نے کہا کہ مجھے وہ چوغہ لا کر دو جو میں نے بدر کے دن پہنا تھا اور جسے میں نے آج کے دن کے لئے سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔یہ وہی سعد تھے جو بدر کے زمانہ میں بالکل نو جوان تھے اور جن کے ہاتھ پر بعد میں ایران فتح ہوا اور جو کوفہ کے بانی اور عراق کے گورنر بنے مگر ان کی نظر میں یہ تمام عزتیں اور فخر جنگ بدر میں شرکت کے عزت ونفخر کے مقابلے میں بالکل پیچ تھیں اور جنگ بدر والے دن کے لباس کو وہ اپنے واسطے سب خلعتوں ،، سے بڑھ کر خلعت سمجھتے تھے اور ان کی آخری خواہش یہی تھی کہ اسی لباس میں لپیٹ کر ان کو قبر ،، میں اتارا جاوے۔“ لائف آف محمد صفحه ۲۲۹،۲۲۸ لائف آف محمد مصنفہ ولیم میور صفحه ۲۲۶، ۲۲۷ بخاری حالات بدر