سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 22 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 22

تائید میں معتبر زبانی تصدیق بھی موجود نہ ہو اور اسی لیے آج تک ہر مہذب ملک کی عدالتوں میں ہر دستاویز کی تصدیق کے لئے زبانی شہادت ضروری قرار دی جاتی ہے اس لئے بالعموم محد ثین نے زبانی اور تحریری روایت کے امتیاز کو اپنے مجموعوں میں ظاہر نہیں کیا۔لیکن اس میں ہر گز کسی شبہ کی گنجائش نہیں کہ اب جو احادیث کے مجموعے ہمارے سامنے ہیں ان سب میں ایک معتد بہ حصہ ایسی روایتوں کا شامل ہے جو زبانی انتقال کے ساتھ ساتھ تحریری طور پر بھی ایک راوی سے دوسرے راوی تک منتقل ہوتی ہوئی نیچے اتری ہیں۔اس دعوی کی تصدیق میں ہم اس جگہ اختصار کی غرض سے صرف صحابہ کے زمانہ کی چند مثالیں درج کریں گے کیونکہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ خود صحابہ میں ایسے لوگ موجود تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اور روایات کو لکھ کر محفوظ کر لیا کرتے تھے اور پھر اُسی مجموعہ سے آگے سلسلہ روایت چلاتے تھے تو یہ ایک قطعی ثبوت اس بات کا ہوگا کہ یہ طریق بعد کے زمانہ میں (جب کہ فن تحریر بہت زیادہ وسیع ہو گیا اور روایات کے لکھنے کے لئے ہر قسم کی سہولت میسر آ گئی ) بدرجہ اولی جاری رہا۔سب سے پہلی اور اصولی حدیث ہم اس معاملہ میں وہ درج کرنا چاہتے ہیں جن میں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تحریک فرمائی ہے کہ جس شخص کو میری باتیں یاد نہ رہتی ہوں اسے چاہئیے کہ انہیں لکھ کر محفوظ کر لیا کرے؛ چنانچہ تر ندی میں یہ روایت آتی ہے کہ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِّنَ الْأَنْصَارِ يَجْلِسُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَسْمَعُ مِنَ النَّبِيِّ الْحَدِيث وَلَا يَحْفَظُهُ فَشَكَا ذَالِكَ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ اسْتَعِنْ بِيَمِينِكَ وَاَوْ مَأْ بِيَدِهِ لِلْخَطِ یعنی ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک انصاری شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں آپ کی باتیں سنتا ہوں مگر مجھے وہ یاد نہیں رہتیں۔آپ نے فرمایا: تم اپنے دائیں ہاتھ کی مدد حاصل کر کے میری باتوں کو لکھ لیا کرو۔“ اس حدیث سے ہمیں یہ علم ہوتا ہے کہ بعض صورتوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود تحریک فرمایا کرتے تھے کہ جس شخص کو میری باتیں یاد نہ رہتی ہوں ، وہ انہیں لکھ کر محفوظ کر لیا کرے اور آپ کے اس فرمان کے ہوتے ہوئے اگر ہمیں تاریخ میں صراحت کے ساتھ یہ ذکر نظر نہ بھی آوے کہ فلاں فلاں صحابی حدیثیں لکھ لیا کرتے تھے تو بھی قیاس یہی ہوگا کہ بعض صحابی ضروری حدیثیں لکھا کرتے تھے، کیونکہ یہ ممکن ا : ترمذی ابواب العلم باب ماجاء في الرخصة فيه