سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 345
۳۴۵ دے رہا ہے کہ ابتدا کفار کی طرف سے تھی اور مسلمانوں نے محض دفاع میں تلوار اٹھائی تھی تو رکیک اور بودے استدلالات کر کے مسلمانوں کی طرف سے ابتدا ہونے کا ثبوت تلاش کرنا ہرگز دیانت داری کا فعل نہیں سمجھا جاسکتا۔جہاد کے متعلق بعض دوسری قرآنی آیات اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی بعض دوسری آیات بھی درج کردی جاویں جو وقتاً فوقتاً جہاد بالسیف کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئیں کیونکہ ان سے ابتدائی اسلامی جنگوں کے حالات پر ایک ایسی روشنی پڑتی ہے جو کسی دوسری جگہ میسر نہیں آسکتی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِجُوهُمْ مِنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ وَالْفِتْنَةُ اشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ وَلَا تُقْتِلُوهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّى يُقْتِلُوكُمْ فِيْهِ فَإِنْ قَتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ كَذَلِكَ جَزَاءُ الْكَفِرِينَ فَإِنِ انْتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيْمٌ وَقْتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُوْنَ الَّذِيْنُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوا فَلا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّلِمِينَ اے مسلمانو !الڑ واللہ کی راہ میں ان لوگوں سے جو تم سے لڑتے ہیں مگر دیکھنا زیادتی نہ کرنا کیونکہ زیادتی کرنے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔اور لڑ وان کفار سے جو تم سے لڑتے ہیں جہاں بھی ان کا اور تمہارا سا منا ہو۔اور نکالو ان کو اس جگہ سے جہاں سے وہ تمہیں نکالیں۔یعنی جہاں بھی وہ تمہارے اثر کو بزور مٹانا چاہیں تم ان کا مقابلہ کرو۔اور بیشک وہ فتنہ جس کے یہ لوگ مرتکب ہو رہے ہیں وہ قتل سے بھی سخت تر ہے مگر ہاں لڑائی مت کر وحرم کے علاقہ میں لیکن اگر یہ کفار خود تم سے حرم میں لڑائی کی ابتداء کریں تو پھر بے شک تم بھی ان کا مقابلہ کرو۔کیونکہ ناشکر گزاروں کی یہی سزا ہے اور اگر کفار اس سے باز آجائیں تو جانو کہ اللہ بھی غفور و رحیم ہے اور اے مسلمانو! تم لڑ وان کفار سے اس وقت تک کہ ملک میں فتنہ نہ رہے اور دین خدا ہی کے لئے ہو جاوے۔یعنی دین کے معاملہ میں سوائے خدا کے اور کسی کا خوف نہ رہے اور ہر شخص آزادی سے اپنی ضمیر کے مطابق جو دین پسند کرے وہ رکھ سکے اور اگر یہ کفار جنگ سے باز آجائیں تو تم بھی فور آرک جاؤ۔کیونکہ کسی کو جنگ کشی کا حق نہیں ہے مگر صرف ظالموں کے خلاف۔“ ا : سورة بقرة: ۱۹۱ تا ۱۹۴