سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 335
۳۳۵ تدا بیر اسلام کو مٹانے کی انہوں نے اختیار کیں وہ ہر زمانہ میں ہر قسم کے حالات کے ماتحت کسی دوقوموں میں جنگ چھڑ جانے کا کافی باعث ہیں۔تاریخ سے ثابت ہے کہ سخت تحقیر آمیز استہزا اور نہایت دل آزار طعن و تشنیع کے علاوہ کفار مکہ نے مسلمانوں کو خدائے واحد کی عبادت اور توحید کے اعلان سے جبر اروکا۔ان کو نہایت بے دردانہ طور پر مارا اور پیٹا۔ان کے اموال کو نا جائز طور پر غصب کیا۔ان کا بائیکاٹ کر کے ان کو ہلاک و بر باد کرنے کی کوشش کی۔ان میں سے بعض کو ظالمانہ طور پر قتل کیا۔ان کی عورتوں کی بے حرمتی کی حتی کہ ان مظالم سے تنگ آکر بہت سے مسلمان مکہ کو چھوڑ کر حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے لیکن قریش نے اس پر بھی صبر نہ کیا اور نجاشی کے دربار میں اپنا ایک وفد بھیج کر یہ کوشش کی کہ کسی طرح یہ مہاجرین پھر مکہ میں واپس آجائیں اور قریش انہیں اسلام سے منحرف کرنے میں کامیاب ہو جا ئیں اور یا ان کا خاتمہ کر دیا جاوے۔پھر مسلمانوں کے آقا اور سردار کو جسے وہ اپنی جان سے زیادہ عزیز سمجھتے تھے سخت تکالیف پہنچائی گئیں اور ہر قسم کے دکھوں میں مبتلا کیا گیا اور قریش کے بھائی بندوں نے طائف میں خدا کا نام لینے پر آپ پر پتھر برسادیئے حتی کہ آپ کا بدن خون سے تر بتر ہو گیا اور بالآخر مکہ کی قومی پارلیمنٹ میں سارے قبائل قریش کے نمائندوں کے اتفاق سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ محمد رسول اللہ کوقتل کر دیا جاوے تا کہ اسلام کا نام ونشان مٹ جاوے اور توحید کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو اور پھر اس خونی قرارداد کو عملی جامہ پہنانے کے لئے نو جوانانِ مکہ جو مختلف قبائل قریش سے تعلق رکھتے تھے رات کے وقت ایک جتھہ بنا کر آپ کے مکان پر حملہ آور ہوئے لیکن خدا نے آپ کی حفاظت فرمائی اور آپ ان کی آنکھوں پر خاک ڈالتے ہوئے اپنے مکان سے نکل آئے اور غار ثور میں پناہ لی۔کیا یہ مظالم اور یہ خونی قرار داد میں قریش کی طرف سے اعلان جنگ کا حکم نہیں رکھتیں ؟ کیا ان مناظر کے ہوتے ہوئے کوئی عقل مند یہ خیال کر سکتا ہے کہ قریش مکہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف برسر پیکار نہ تھے ؟ پھر کیا قریش کے یہ مظالم مسلمانوں کی طرف سے دفاعی جنگ کی کافی بنیاد نہیں ہو سکتے تھے؟ کیا دنیا میں کوئی با غیرت قوم جو خود کشی کا ارادہ نہ کر چکی ہو ان حالات کے ہوتے ہوئے اس قسم کے الٹی میٹم کے قبول کرنے سے پیچھے رہ سکتی ہے جو قریش نے مسلمانوں کو دیا ؟ یقینا یقیناً اگر مسلمانوں کی جگہ کوئی اور قوم ہوتی تو وہ اس سے بہت پہلے قریش کے خلاف میدان جنگ میں اتر آتی مگر مسلمانوں کو ان کے آقا کی طرف سے صبر اور عفو کا حکم تھا۔چنانچہ لکھا ہے کہ جب مکہ میں قریش کے مظالم بہت بڑھ گئے تو عبد الرحمن بن عوف اور دوسرے صحابہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر قریش کے مقابلہ کی اجازت چاہی مگر آپ نے فرمایا انسٹی