سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 308
۳۰۸ نازل ہوئی کہ آئندہ ایک زمانہ میں ایک جماعت صحابہ کی مانند اور انہیں کی تعلیم کی حامل پیدا ہوگی تو صحابہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ! یہ کون لوگ ہوں گے۔اس پر آپ نے سلمان فارسی پر اپنا ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ عِندَ القُرَيَّا لَنَالَهُ رِجَالٌ أَوْرَجُلٌ مِنْ هَؤُلَاءِ یعنی اگر ایمان ثریا تک بھی اٹھ جائے گا تو ان فارسی الاصل لوگوں میں سے ایک شخص اسے دنیا میں پھر قائم کر دے گا۔قبیلہ اوس و خزرج کے غیر مسلم رؤساء یہ ذکر کیا جاچکا ہے کہ مدینہ میں ابھی تک اوس وخزرج کے بہت سے لوگ مسلمان نہیں ہوئے تھے بلکہ بدستور اپنے مذہب پر قائم تھے۔ان میں سے دو شخص خاص طور پر ممتاز اور معزز سمجھے جاتے تھے۔چنانچہ عبداللہ بن ابی بن سلول رئیس خزرج کا ذکر اوپر گزر چکا ہے کہ وہ کس طرح شروع میں تو اسلام سے الگ الگ رہا مگر بعد میں بظاہر مسلمان ہو گیا، لیکن در پردہ وہ اسلام کا دشمن رہا اور منافقین مدینہ کا سردار بن گیا۔دوسرا شخص در ابو عامر تھا جو قبیلہ اوس کا رئیس تھا۔یہ شخص اپنی زندگی کے ابتدائی حصہ میں ایک سیاح رہ چکا تھا اور بہت سے ممالک میں سفر کرنے کے بعد اب گویا تارک الدنیا ہو کر راہب کہلاتا تھا۔ابو عامر کچھ کچھ نصرانیت کی طرف مائل تھا اور ایک آزاد مذہبی معلم ہونے کا دعویٰ رکھتا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر اس نے آپ کی مخالفت شروع کی اور بالآخر اپنے بغض و حسد میں جلتا ہوا مد ینہ چھوڑ کر مکہ کی طرف چلا گیا اور اس کے ساتھ وہ چند لوگ بھی جو اس کے زیر اثر تھے مدینہ چھوڑ گئے۔جنگ اُحد میں ابو عامر مکہ والوں کی طرف سے ہوکر میدان جنگ میں آیا اور قدرت حق کا عجیب نظارہ ہے کہ اسی جنگ میں اس کا لڑکا نظلہ جو ایک نہایت مخلص مسلمان تھا، مسلمانوں کی طرف سے لڑتا ہوا شہید ہوا۔ابو عا مر فتح مکہ تک مکہ میں ہی مقیم رہا اور فتح مکہ کے بعد طائف چلا گیا اور جب طائف بھی صحابہ کے ہاتھ پر فتح ہو گیا تو وہ مسلمانوں کے خلاف رومی سلطنت کے ساتھ سازش کرنے کی نیت سے شام کی طرف نکل گیا لیکن اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکا۔ابو عا مر جب مدینہ میں تھا تو طعن و تحقیر کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو طرید و وحید ( یعنی وطن سے نکالا ہوا اکیلا چھوڑا ہوا شخص ) کہہ کر پکارا کرتا تھا لیکن آخر خود اس کا یہ انجام ہوا کہ بالآخر و ہیں شام میں وہ بے وطنی اور بے کسی و بے بسی کی حالت میں بھٹکتا ہوا مر گیا۔: بخاری تفسیر سورۃ جمعہ صفحہ ۷۲۷ مطبع مجتبائی دہلی : زرقانی خمیس جلد ۲ صفحه ۱۴۴۔میور صفحه ۱۷۴۔مارگولیس صفحه ۴۲۴