سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 302 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 302

شروع شروع میں مسجد کا رخ بیت المقدس کی طرف رکھا گیا تھا لیکن تحویل قبلہ کے وقت یہ رخ بدل دیا گیا۔مسجد کی بلندی اس وقت دس فٹ اور طول ایک سو پانچ فٹ اور عرض نوے فٹ کے قریب تھا لیکن بعد میں اس میں توسیع کر دی گئی۔مسجد کے ایک گوشے میں ایک چھت دار چبوترہ بنایا گیا تھا جسے صفہ کہتے تھے۔یہ ان غریب مہاجرین کے لئے تھا جو بے گھر بار تھے۔یہ لوگ یہیں رہتے تھے اور اصحاب الصفہ کہلاتے تھے۔ان کا کام گویا دن رات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہنا، عبادت کرنا اور قرآن شریف کی تلاوت کرنا تھا۔ان لوگوں کا کوئی مستقل ذریعہ معاش نہ تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کی خبر گیری فرماتے تھے اور جب کبھی آپ کے پاس کوئی حد یہ وغیرہ آتا تھا یا گھر میں کچھ ہوتا تھا تو اُن کا حصہ ضرور نکالتے تھے۔بلکہ بعض اوقات خود فاقہ کرتے اور جو کچھ گھر میں ہوتا تھا وہ اصحاب الصفہ کو بھجوا دیتے تھے۔انصار بھی ان کی مہمانی میں حتی المقدور مصروف رہتے تھے اور ان کے لئے کھجوروں کے خوشے لا لا کر مسجد میں لٹکا دیا کرتے تھے یے لیکن بائیں ہمہ ان کی حالت تنگ رہتی تھی اور بسا اوقات فاقہ تک نوبت پہنچ جاتی تھی اور یہ حالت کئی سال تک جاری رہی حتی کہ کچھ تو مدینہ کی آبادی کی وسعت کے نتیجہ میں ان لوگوں کے لئے کام نکل آیا اور کچھ قومی بیت المال سے امداد کی صورت پیدا ہوگئی۔مسجد کے ساتھ ملحق طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے رہائشی مکان تیار کیا گیا تھا۔مکان کیا تھا ایک دس پندرہ فٹ کا چھوٹا سا حجرہ تھا اور اس حجرہ اور مسجد کے درمیان ایک دروازہ رکھا گیا تھا جس میں سے گزر کر آپ نماز وغیرہ کے لئے مسجد میں تشریف لاتے تھے۔جب آپ نے اور شادیاں کیں تو اسی حجرہ کے ساتھ ساتھ دوسرے حجرات تیار ہوتے گئے۔مسجد کے آس پاس بعض اور صحابہ کے مکانات بھی تیار ہو گئے۔یہ تھی مسجد نبوی جو مدینہ میں تیار ہوئی اور اس زمانہ میں چونکہ اور کوئی پبلک عمارت ایسی نہ تھی جہاں قومی کام سرانجام دئے جاتے اس لئے ایوان حکومت کا کام بھی یہی مسجد دیتی تھی۔یہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس لگتی تھی۔یہیں تمام قسم کے مشورے ہوتے تھے۔یہیں مقدمات کا فیصلہ کیا جاتا۔یہیں سے احکامات صادر ہوتے تھے۔یہی قومی مہمان خانہ تھا اور ضرورت ہوتی تھی تو اسی سے جنگی قیدیوں کی جبس گاہ کا کام بھی لے لیا جاتا تھا۔: ترمذی بحوالہ تلخیص جلدا