سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 262
۲۶۲ ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔حضرت ابو بکر دن رات اس خبر کے انتظار میں تھے۔فوراً بولے اَلصُّحْبَةُ يَا رَسُولَ اللهِ - یعنی "یا رسول اللہ! مجھے بھی ساتھ رکھیئے گا ؟ ارشاد ہوا’ہاں۔۔حضرت عائشہ کہتی ہیں میں نے اس وقت تک کسی شخص کو خوشی میں روتے نہیں دیکھا تھا۔مگر اب دیکھا کہ جونہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں“ حضرت ابو بکر کے آنسو جاری ہو گئے۔۔پھر انہوں نے آپ سے عرض کیا۔یا رسول اللہ ! میں نے ہجرت کی تیاری میں دو اونٹنیاں ببول کی پتیاں کھلا کھلا کر پال رکھی ہیں۔ان میں سے ایک آپ قبول فرماویں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں، مگر قیمت لوں گا۔ابوبکر نے ناچار قبول کیا اور ہجرت کی تیاری شروع ہوئی۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ ہم نے جلدی جلدی ضروری سامان تیار کیا اور کھانا تیار کر کے ایک چمڑہ کے برتن میں بند کیا اور پھر میری بہن اسماء نے اپنے نطاق یعنی کمر پر باندھنے والے پٹکے کے دوٹکڑے کر کے ایک ٹکڑا کھانے کے برتن پر باندھ دیا اور ایک پانی کے برتن پر۔اس سبب سے اُن کو ذَاتُ النِطَاقَيْنِ یعنی دو نطاقوں والی کہتے ہیں۔اس کے بعد آپ حضرت ابو بکر سے اسی رات مکہ سے نکل جانے اور غار ثور میں پناہ لینے کی قرارداد کر کے اپنے گھر واپس تشریف لے آئے۔آغاز سفر ہجرت اور قریش کا تعاقب رات کا تاریک وقت تھا اور ظالم قریش جو مختلف قبائل سے تعلق رکھتے تھے اپنے خونی ارادے کے ساتھ آپ کے مکان کے ارد گرد جمع ہو کر آپ کے مکان کا محاصرہ کر چکے تھے اور انتظار تھا کہ صبح ہو یا آپ اپنے گھر سے نکلیں تو آپ پر ایک دم حملہ کر کے قتل کر دیا جاوے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بعض کفار کی امانتیں پڑی تھیں کیونکہ باوجود شدید مخالفت کے اکثر لوگ اپنی امانتیں آپ کے صدق و امانت کی وجہ سے آپ کے پاس رکھوا دیا کرتے تھے۔لہذا آپ نے حضرت علی کو ان امانتوں کا حساب کتاب سمجھا دیا اور تاکید کی کہ بغیر امانتیں واپس کئے مکہ سے نہ نکلنا۔اس کے بعد آپ نے ان سے فرمایا کہ تم میرے بستر پر لیٹ جاؤ اور تسلی دی کہ انہیں خدا کے فضل سے کوئی گزند نہیں پہنچے گا۔وہ لیٹ گئے اور آپ نے اپنی چادر جو سرخ رنگ کی تھی اُن کے اوپر اُڑھا دی۔اس کے بعد آپ اللہ کا نام لے کر اپنے گھر سے نکلے اُس وقت محاصرین آپ کے دروازے کے سامنے موجود تھے مگر چونکہ انہیں یہ خیال نہیں تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر اول شب میں ہی گھر سے نکل آئیں گے۔وہ اُس وقت اس قد رغفلت میں تھے 2 : بخاری باب الحجرت : طبری وابن ہشام : بخاری باب الہجرت وکتاب الاطعمة : ابن ہشام وطبری