سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 221 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 221

۲۲۱ اور جبرائیل نے آپ کو بتایا کہ یہ حضرت عیسیٰ اور حضرت سکی" ہیں۔جو خالہ زاد بھائی تھے۔اسی طرح جبرائیل علیہ السلام آپ کو اپنے ساتھ لے کر تیسرے اور چوتھے اور پانچویں آسمان میں سے گذرے جن میں آپ نے علی الترتیب حضرت یوسف اور حضرت اور لیں اور حضرت ہارون کو پایا۔چھٹے آسمان پر آپ کی ملاقات حضرت موسیٰ سے ہوئی اور حضرت موسی نے بھی آپ کو اسی طرح مرحبا کہا اور آپ نے سلام کیا۔جب آپ ان سے آگے گزرنے لگے تو حضرت موسی رو پڑے جس پر آواز آئی۔اے موسی" ! کیوں روتے ہو؟ حضرت موسیٰ نے کہا۔اے میرے اللہ! یہ نوجوان میرے پیچھے آیا مگر اس کی اُمت میری اُمت کی نسبت جنت میں زیادہ داخل ہوگی۔اے میرے اللہ ! میں یہ نہیں سمجھتا تھا کہ کوئی شخص میرے پیچھے آ کر مجھ سے آگے نکل جائے گا۔اس کے بعد آپ سا تو میں آسمان میں داخل ہوئے جہاں آپ کی حضرت ابراہیم سے ملاقات ہوئی جو بیت معمور کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔یہ بیت معمور آسمانی عبادت گاہ کا مرکز تھا ( جس کے گویا ظل کے طور پر دنیا میں کعبتہ اللہ تعمیر ہوا تھا ) حضرت ابراہیم نے بھی آپ کو دیکھ کر اُسی طرح مرحبا کہا جس طرح حضرت آدم نے کہا تھا۔( کیونکہ وہ بھی حضرت آدم کی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جد امجد تھے ) اور آپ نے بھی اسی طرح اُن کو سلام کہا۔اس کے بعد آپ اور آگے بڑھے اور وہاں پہنچے جہاں اس وقت تک کسی بشر کا قدم نہیں پہنچا تھا۔یہاں آپ نے اپنے اوپر سے بہت سی قلموں کے چلنے کی آواز سنی ( جو گو یا قضا و قدر کی قلمیں تھیں ) اس کے بعد آپ کو اپنے سامنے ایک بیری کا درخت نظر آیا جو گویا زمینی تعلقات کے لیے آسمان کا آخری نقطہ تھا اور اس کے ساتھ سے جنت مالی شروع ہوتی تھی۔اس بیری کے درخت کے پھل اور پتے بڑے بڑے اور عجیب و غریب قسم کے تھے۔جب آپ نے اس درخت کو دیکھا تو اس پر ایک فوق البیان اور گونا گوں تجلی کا ظہور ہوا جس کے متعلق آپ فرماتے ہیں کہ الفاظ میں یہ طاقت نہیں کہ انہیں بیان کرسکیں۔اس بیری کے نیچے چار دریا بہہ رہے تھے جن کے متعلق جبرائیل نے آپ کو بتایا کہ ان میں سے دو دریا تو دنیا کے ظاہری دریا نیل وفرات ہیں اور دو باطنی دریا ہیں جو جنت کی طرف کو بہتے ہیں۔اس موقع پر آپ کو حضرت جبرائیل اپنی اصلی شکل وصورت میں نظر آئے اور آپ نے دیکھا کہ وہ چھ سو پروں سے آراستہ ہیں۔اس کے بعد آپ کو جنت کی سیر کرائی گئی اور بالآخر آپ نے دیکھا کہ آپ خدائے ذوالجلال کے لے : یہ فقرہ حضرت موسیٰ کی طرف سے نعوذ باللہ حسد کے طور پر نہیں تھا بلکہ ایک طبعی رشک کا اظہار تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ارفع شان کو ظاہر کرنے کے لیے غالبا خدائی تصرف کے ماتحت کرایا گیا۔منہ